.

دوستان شام کے اہم اجلاس میں متعدد امن تجاویر پر تبادلہ خیال متوقع

شام میں بحرانی صورتحال مسلسل برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دوستان شام کا اہم اجلاس اردن میں آج [بروز بدھ] منعقد ہو رہا ہے جس میں شامی بحران کے حل کے لیے غور کیا جائے گا۔ دوسری طرف ایسی اطلاعات ہیں کہ حزب اللہ کے مزید جنگجو دمشق حکومت کا ساتھ دینے کے لیے شام پہنچ گئے ہیں۔

اردن کے دارالحکومت عَمان میں ہونے والے 'فرینڈز آف سیریا' کے اجلاس میں برطانیہ، مصر، فرانس، اٹلی، جرمنی، فرانس، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ امریکا سے تعلق رکھنے والے گیارہ اعلیٰ ترین مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس اجلاس کے دوران اہم علاقائی طاقتوں کے ساتھ ساتھ یورپی اور امریکی مندوبین مل کر کسی ایک حکمت عملی پر متفق ہونے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس دوران دراصل جائزہ لیا جائے گا کہ شامی خانہ جنگی کے خاتمے کے حوالے سے ہم کہاں پہنچ سکیں ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس اجلاس سے قبل عالمی وقت کے مطابق ساڑھے گیارہ بجے امریکی وزیر خارجہ جان کیری ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے جبکہ سات بجے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ بھی صحافیوں کو بریفنگ دیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ اس موقع پر شامی صورتحال کے بارے معلومات فراہم کرنے کے لیے اردن میں تعینات شامی سفیر بہجت سلیمان بھی میڈیا سے مخاطب ہوں گے۔

ادھر انسانی حقوق کے متعدد اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے متعدد جنگجو لبنان کے سرحدی راستوں سے شام میں داخل ہو گئے ہیں تاکہ وہ شامی صدر بشار الاسد کی حامی افواج کے ساتھ مل کر باغیوں کے خلاف لڑ سکیں۔ واشنگٹن حکومت نے حزب اللہ کی طرف سے شام میں مبینہ مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ لبنان کی اس تنظیم کے عسکری ونگ کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ بنا رہی ہے۔

متعدد سکیورٹی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ شام میں گزشتہ 26 ماہ سے جاری سیاسی بحران کے اثرات ہمسایہ ممالک پر پڑنے لگیں ہیں۔ اسی تناظر میں اسرائیل اور شامی فورسز نے گولان کی متنازعہ سرحدی پہاڑیوں پر فائرنگ کا تبادلہ بھی کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر شامی فورسز اس علاقے سے اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ بند نہیں کرتیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

اسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ شیعہ تنظیم حزب اللہ کے عسکریت پسند صوبہ حمص میں واقع قصیر نامی علاقے میں جاری لڑائی میں حکومتی فورسز کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا ہے، ’’ یہ واضح ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو اس لڑائی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ شامی فضائیہ نے اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور بہت سا علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔

رامی عبدالرحمان کے بقول قصیر میں اتوار سے جاری لڑائی میں حزب اللہ کے 31 جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس دوران 70 باغی اور 9 شامی فوجی بھی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال میں قصیر میں قریب 25 ہزار شہری پھنس کر رہ گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی بچوں کے لیے کام کرنے والی ایجنسی نے کہا ہے کہ قصیر میں محصور ہونے والے شہریوں میں زیادہ تر تعداد بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس ایجنسی کی خاتون ترجمان نے جینوا میں بتایا کہ اس علاقے کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔