.

شمالی سیناء میں یرغمال سات مصری سکیورٹی اہلکار بازیاب

رہائی میں اہلِ سیناء اور قبائلی سرداروں نے اہم کردار ادا کیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری مسلح افواج کے ترجمان کرنل احمد محمد علی نے اعلان کیا ہے کہ صحرائے سیناء کے علاقے میں یرغمال سات سکیورٹی اہلکار رہا کرا لیے گئے ہیں۔ یرغمالیوں کی رہائی میں علاقے کے سرداروں نے اہم کردار ادا کیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'فیس بک' پر ایک بیان میں کرنل احمد محمد علی نے بتایا کہ رہائی پانے والے فوجی قاہرہ لیجائے جا رہے ہیں۔ 'ساتوں فوجیوں کی رہائی مصری فوج کی انٹلیجنس کے محنت اور قبائلی سرداروں اور اہلِ سیناء کے تعاون سے عمل میں آئی ہے۔

درایں اثنا 'العربیہ' کے نامہ نگار نے بتایا کہ رہائی پانے والے مصری فوجیوں نے اپنے اہل خانہ سے رابطوں کے بعد انہیں اپنی خریت کی اطلاع دی اور بتایا کہ انہیں اغوا کاروں نے ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا۔ انہیں فوجی طیارے کے ذریعے قاہرہ روانہ کر دیا گیا ہے جہاں فوج کے سربراہ جنرل السیسی اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ان کا استقبال کریں گے۔ صدر محمد مرسی بھی ان یرغمالیوں کو خوش آمدید کہنے 'الماظہ' ہوائی اڈے روانہ ہو چکے ہیں۔

'العربیہ' کے نامہ نگار نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سیناء میں فوجی کارروائی ختم نہیں کی گئی،اسے اغوا کاروں کی گرفتاری تک جاری رکھا جائے گا۔

ادھر غزہ میں فلسطین کی مستعفی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ مصر اور غزہ کی پٹی کو ملانے والی 'رفح' کی سرحدی گذرگاہ چھے روز بند رہنے کے بعد دوبارہ کھول دی گئی ہے۔ یہ کراسنگ مصر کے علاقے شمالی سیناء سے اغوا ہونے والے سات سکیورٹی اہلکاروں کے اغوا کے بعد بند کر دی گئی تھی۔

وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصری حکام نے بدھ کی صبح کراسنگ کھولے جانے کے فیصلے سے انہیں آگاہ کیا۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ابتدا میں کراسنگ سے فوری طور پر ہنگامی نوعیت کے سفر کی اجازت ہو گی۔ مصری پولیس نے اپنے فوجی پیٹی بھائیوں کے اغوا پر بطوراحتجاج رفح کراسنگ بند کر دی تھی جس کے بعد راہداری کے دونوں جانب مریض اور بیرون ملک سفر کے خواہاں سیکڑوں افراد پریشان حال بیٹھے رہے۔