ایرانی صدر اپنے سمدھی رحیم مشایی کی نااہلیت چیلنج کریں گے

سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجانی سمیت 678 صدارتی امیدوار نااہل قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے قریبی مشیر صدارتی امیدوار کو نااہل قرار دینے کا معاملہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سامنے اٹھائیں گے۔

ایران کی شورائے نگہبان نے گذشتہ روز سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور صدر نژاد کے سابق چیف آف اسٹاف اسفندیاررحیم مشایی سمیت پونے سات امیدواروں کو 14 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دے دیا ہے۔

ایرانی خبررساں ایجنسی ایسنا کی رپورٹ کے مطابق صدر احمدی نژاد نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ''میں نے مشایی کو متعارف کرایا تھا اور میں انھیں جانتا ہوں۔وہ ایک اچھے شخص ہیں ،ملک کے خیرخواہ ہیں اور میرا یہ یقین ہے کہ وہ اہل ہیں''۔

احمدی نژاد نے کہا کہ ''میری رائے میں رہ نما کے ساتھ یہ معاملہ اٹھانے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور میں ان کے ساتھ آخری لمحے تک یہ معاملہ اٹھاؤں گا۔مجھے توقع ہے کہ اس مسئلہ کو حل کر لیا جائے گا''۔

واضح رہے کہ ایران کی قدامت پرست اسٹیبلشمنٹ مشایی کو شک کی نظر سے دیکھ رہی ہے اور ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک ''منحرف'' گروہ کے ذریعے علماء کی اتھارٹی کو چیلنج کرسکتے ہیں۔قدامت پسندوں کا یہ بھی خیال ہے کہ احمدی نژاد خود تو آئین کے تحت تیسری مرتبہ ملک کے صدر نہیں بن سکتے لیکن وہ اپنے اس رشتے دار اور اتحادی کے ذریعے اقتدار پر کنٹرول برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

صدرنژاد نے بہ نفس نفیس رحیم مشایی کے ہمراہ وزارت داخلہ میں جاکر صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کے نام کا اندراج کرایا تھا۔وہ ایرانی صدر کے سمدھی ہیں اور ان کی بیٹی کی شادی صدر نژاد کے بیٹے سے ہوئی ہے۔ایرانی پارلیمان کے ارکان نے ان کے غیر اسلامی رویے کے پیش نظر شورائے نگہبان سے ان پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

امریکا نے مذکورہ دوسرکردہ شخصیات سمیت سیکڑوں صدارتی امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے فیصلے کو مبہم قرار دیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان پیٹرک وینٹرل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ایران کی غیر منتخب شورائے نگہبان (گارڈین کونسل) نے ایک مبہم معیار کی بنا پر سیکڑوں امیدواروں کو نااہل قرار دے دیا ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ ''کونسل نے قریباً سات سو صدارتی امیدواروں کی فہرست کو صرف آٹھ تک محدود کردیا ہے اور صرف ان امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ رجیم کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں یا کریں گے''۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی مہر کی اطلاع کے مطابق شورائے نگہبان نے جن آٹھ امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے،ان میں نصف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار ہیں اور وہ ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی،معروف رکن پارلیمان غلام علی حداد عادل ،سابق وزیرخارجہ علی اکبر ولایتی اور تہران کے میئر محمد باقر قلی باف ہیں۔

ان کے علاوہ پاسداران انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی ،سابق جوہری مذاکرات کار حسن روحانی ، سابق اول نائب صدر محمد رضاعارف اور ایک غیرمعروف سابق وزیرخارجہ کے کاغذات بھی منظور کر لیے گئے ہیں۔ان تمام آٹھ امیدواروں میں حسن روحانی اور رضاعارف ہی اصلاح پسند ہیں۔اب اصلاح پسندوں کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ان کے لیے دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ صدارتی انتخابات کا سرے سے بائیکاٹ ہی کردیں۔

صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے لیے کل 686 امیدواروں نے اپنے ناموں کا اندراج کرایا تھا۔ان میں تیس خواتین بھی شامل تھیں۔ شورائے نگہبان نے 678 امیدواروں کو نااہل قرار دیا ہے لیکن اس نے یہ وضاحت نہیں کہ ان امیدواروں کو کس معیار کی بنیاد پر صدارتی دوڑ سے باہر کردیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں