ایران کی موجودہ قیادت جاہل اور نااہل ہے:علی اکبر رفسنجانی

نجف ،قُم اور مشہد سے خطوط اور ٹیلی فون کالز کے بعد صدارتی امیدوار بنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایران کے سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے اپنے ملک کی قیادت کو نااہل اور جاہل قرار دے دیا ہے۔

ان کا یہ بیان جمعرات کو حزب اختلاف کی ویب سائٹ کلمہ نے نقل کیا ہے۔انھیں دوروز قبل ہی شورائے نگہبان نے چودہ جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دے دیا ہے۔

انھوں نے بدھ کو اپنی انتخابی مہم کی ٹیم کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''میرا نہیں خیال کہ ملک کو اس سے بھی بدتر طریقے سے چلایا جاسکتا ہے،حتیٰ کہ اس کی پیشگی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے''۔

ہاشمی رفسنجانی نے کہا کہ ''میں ان کے پروپیگنڈا اور حملوں کے آگے جھکنا نہیں چاہتا لیکن جہالت پریشان کن ہے۔وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ وہ کیا کررہے ہیں''۔انھوں نے واضح طور پر یہ تو نہیں کہا کہ ان کا مخاطب کون ہے لیکن وہ 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے بعد سے مقتدر طبقوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے رہے ہیں جس کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ انھیں اپنے لیے ایک خطرہ سمجھتی رہی ہے۔

سابق صدر نے ایران کو امریکا اور اسرائیل سے درپیش خطرے سے خبردار کیا اور کہا کہ ''انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ان کے صدارتی امیدوار بننے سے ایک لہر دوڑ جائے گی لیکن کیا اب لوگ غائب ہوجائیں۔ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوسکتا کہ لوگ غائب ہوجائیں۔ایک دن ایسا آئے گا کہ جنھیں آنا ہے،وہ آکر رہیں گے''۔

علی اکبر رفسنجانی کا کہنا تھا کہ ''عراق،ایران جنگ کے بعد ملک کی تعمیرنو کے تجربے کو اب دوبارہ بروئے کار لانے کی ضرورت تھی''۔واضح رہے کہ وہ 1989ء میں جنگ کے خاتمے کے ایک سال کے بعد پہلی مرتبہ ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ان کی انتظامیہ کو ''تعمیر نوکی حکومت'' کا نام دیا گیا تھا۔انھوں نے معاشی ترقی اور اصلاحات کے ذریعے ایران کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ''غیرملکی مجھے ''آسان آدمی'' کہتے ہیں کیونکہ میرا دروازہ کھلنے میں دیر نہیں لگائی جاتی تھی۔اب اس تجربے کو دوبارہ بروئے کار لایا جاسکتا تھا''۔ان کا کہنا تھا کہ میں خود صدارتی انتخاب نہیں لڑنا چاہتا تھا لیکن مجھے نجف ،قُم اور مشہد سے خطوط اور ٹیلی فون کالز سیلاب کی طرح موصول ہورہی تھیں۔تمام بڑے علماء مجھے صدارتی بننے کے لیے کہہ رہے تھے۔اب اس صورت حال میں ،میں خاص طور پر نوجوانوں کو کیسے انکار کرسکتا تھا''۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کی انتخابی مہم پہلے ہی مقبولیت اختیار کرچکی تھی۔خاص طور پر اصلاح پسند انھیں اپنے لیے امید کی کرن قرار دے رہے تھے ۔اصلاح پسندوں میں ان کی بے پایاں مقبولیت کے پیش نظر ایران کی قدامت پسند قیادت انھیں اپنے لیے ایک خطرہ سمجھ رہی تھی اور اسی بنا پر انھیں صدارتی انتخاب لڑنے کا نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

سابق صدر کو آیندہ صدارتی دوڑ سے باہر کیے جانے سے اصلاح پسند گروپوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اب ان کی صدارتی انتخاب میں عدم دلچسپی سے ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہوسکتی ہے اور اس طرح آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار امیدوار کے جیتنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ایرانی میڈیا نے یہ تو نہیں بتایا کہ ہاشمی رفسنجانی کو کیوں نااہل قرار دیا گیا ہے۔

تاہم ان کے مخالفین یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کی عمر اٹھہتر برس ہے اور وہ اس بڑھاپے میں ملک کو احسن طریقے سے چلا نہیں پائیں گے۔اس کے علاوہ بھی ایران کے سخت گیر ان پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔سخت گیروں کا سابق صدر پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ صدارتی انتخابات میں حزب اختلاف کے احتجاجی مظاہروں کی حمایت کی تھی اوروہ صدر نژاد کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں