سعودی عرب ایرانی سراغرسانی سرگرمیوں پرسخت احتجاج کرے گا

ایران مخالف مناسب موقف کے لیے عالمی اداروں سے رجوع کریں گے:وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب ایران کے جاسوسی کی سرگرمیوں پر سخت احتجاج کرے گا اور اس بارے میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ سمیت عالمی اداروں کو مطلع کرے گا تاکہ ایران کے خلاف مناسب موقف اختیار کیا جاسکے۔

یہ بات سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے ''عرب نیوز'' سے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے ترک دارالحکومت انقرہ میں سعودی اخبارات کے مدیران اعلیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ایران کے جاسوسی نیٹ ورک کی سعودی عرب میں موجودگی اس کے مملکت مخالف رویے کو ظاہر کرتی ہے''۔

انھوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کو سعودی عرب کے خلاف کام کرنے کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ایران کے جاسوسی نیٹ ورک کی سعودی عرب میں موجودگی بین الاقوامی اقدار کے منافی ہے اور اس کے ان دعووں کی بھی نفی ہے کہ وہ سعودی مملکت کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے۔

شہزادہ سعودالفیصل نے بتایا کہ ان کی چند روز قبل ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات ہوئی تھی اور انھوں نے تہران کی جانب سے ریاض کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ہم اس خواہش کو برسرزمین عملی جامہ پہنتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں مگر ایرانی عہدے داروں کے بیانات اور عملی اقدامات ایک دوسرے کے برعکس ہیں''۔

سعودی حکام نے منگل کو ایران کے مبینہ جاسوسی نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں مزید دس مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی۔ان مشتبہ افراد میں آٹھ سعودی ،ایک لبنانی اور ایک ترک شہری ہے۔واضح رہے کہ سعودی عرب نے مارچ میں ایران سے وابستہ جاسوسی کے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا۔سعودی وزارت داخلہ کے حکام نے 19 مارچ کو ایران کے سراغرساں ادارے سے تعلق کے شُبے میں سولہ سعودیوں ،ایک ایرانی اور ایک لبنانی کو گرفتار کیا تھا۔انھیں سعودی عرب کے مشرقی صوبے سمیت چار علاقوں سے پکڑا گیا تھا۔

شہزادہ سعودالفیصل نے سعودی عرب کے ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے ہمراہ ترکی کا دورہ کیا ہے۔انھوں نے ترکی اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنی بلندی پر ہیں۔

انھوں نے سعودی ولی عہد کے دورے کو کامیاب قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور عالمی امور پر ایک جیسا سیاسی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ روابطہ اور تعاون کو بڑھانے کا عزم کررکھا ہے اور دونوں ہی اس ضمن میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا چاہتے ہیں۔

شام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اور ترکی اس ملک کے حوالے سے یکساں موقف رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ بحران کا حل شامی رجیم کے خاتمے میں مضمر ہے اور وہاں کے عوام کو حتمی رائے کے اظہار کا موقع دیا جانا چاہیے۔انھوں نے بشارالاسد کی حکومت پر الزام عاید کیا کہ وہ بین الاقوامی چارٹرز کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے۔

انھوں نے شام میں جاری خونریزی کے خاتمے اور طاقت کے توازن کے لیے حزب اختلاف کو مسلح کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔انھوں نے کہا کہ شامی صدر بشارالاسد معقولیت کو قبول کرنے سے انکار کرچکے ہیں،انھوں نے تنازعے کے فوجی حل کو اختیار کیا ہے اور اپنے ہزاروں عوام کو قتل کردیا ہے۔

شہزادہ سعودالفیصل نے عراق کی داخلی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت پر ملک میں فرقہ واریت کی جڑیں گہری کرنے کا الزام عاید کیا اور کہا کہ ''انھوں نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے حزب اختلاف پر حملے کیے ہیں اور ریاست کے شہری اصولوں کو پامال کیا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں