لندن کی سڑک پر حاضر سروس فوجی کو قتل کر دیا گیا

حملہ دہشت گردی ہو سکتی ہے: ڈیوڈ کیمرون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی پولیس نےان دو حملہ آوروں کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا ہے جنہوں نے ایک حاضر فوجی کو لندن بیرکس کے باہر قتل کردیا ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم نے اس سانحے کو ‘ حقیقتاً خوفناک’ قرار دیا ہے۔

حکومت کی جانب سے ایمرجنسی میں کام کرنے والی کمیٹی نے تفتیش شروع کردی ہے۔ چشم دید گواہان کے مطابق اس واقعے میں بغدے جیسے ایک بڑے خنجر سے فوجی کا سرکاٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔

اس سے قبل رپورٹوں میں کہا گیا تھا کہ اس حملے کا تعلق اسلام سے وابستہ مذہبی شدت پسندی سے ہوسکتا ہے۔ لیکن اب تک باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

یہ واقعہ دن دیہاڑے پیش آیا اور قتل کی جگہ جنوب مشرقی لندن کے علاقے وولچ میں رائل آرٹلری بیرکس سے صرف دو سومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

پولیس کو دوپہر دوبج کر بیس منٹ پر اطلاع دی گئی کہ دو ملزموں نے ایک شخص پر حملہ کیا ہے۔
ابتدائی طور پر پولیس کمانڈر سائمن لیکفورڈ نے بتایا تھا کہ واقعے میں کئی ہتھیار استعمال کئے گئے جن میں آتشیں اسلحہ بھی شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد پولیس نے دو مسلح حملہ آوروں کو نشانہ بنایا اور انہیں لندن کے مختلف ہسپتالوں میں علاج کیلئے لے جایا گیا۔ اس وقت ان کا علاج ہورہا ہے۔

پولیس اور دیگر اداروں نے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ہے اور شہریوں کو پرسکون رہنے کی ہدایت جاری کی ہیں۔
وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سیکریٹری داخلہ تھریسا مے اور وزیرِ داخلہ سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر کوبرا میٹنگ کی سربراہی کریں۔ کوبراحکومت کی جانب وضع کردہ سے شہری تحفظ کی ایمرجنسی تنظیم ہے۔

وولیچ کے رکن پارلیمنٹ نک رینسفورڈ نے کہا کہ مرنے والا شخص حاضر فوجی تھا۔

برطانیہ میں اپوزیشن پارٹی کے رہنما ایڈ ملی بینڈ نے ٹویٹر پر کہا کہ وولچ میں جو کچھ ہوا وہ خوفناک ہے۔ جو کچھ ہوا ہے اس سے پورا ملک خوفزدہ ہے۔

واضح رہے کہ کیمرون اس وقت فرانس میں ہے اور وہ فوری طور پر لندن پہنچ کر معاملات کا جائزہ لینے کے علاوہ کل دوبارہ ہونے والی کوبرا میٹنگ کی صدارت کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں