.

امریکا کا ایران کے آیندہ صدارتی انتخابات پرشکوک کا اظہار

ایرانی رجیم کے مفادات کے نگہبان ہی اہل قرار پائے ہیں:جان کیری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایران میں آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا ہے اور امیدواروں کی بڑی تعداد کو نااہل قرار دینے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے تل ابیب میں جمعہ کو نیوزکانفرنس میں کہا کہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر جاری تعطل کو دور کرنے کے وقت نکلتا جارہا ہے۔انھوں نے ایران کی شورائے نگہبان کی جانب سے پونے سات سو سے زیادہ صدارتی امیدواروں کو نا اہل قرار دینے پر اپنے شدید تحفظات کا اظہارکیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ گارڈین کونسل (شورائے نگہبان) نے قریباً سات سو امیدواروں کی فہرست کو بہت محدود کردیا ہے اور اس کو صرف ان امیدواروں کو رہنے دیا گیا ہے جو ایرانی رجیم کے مفادات کی نگہبانی کرسکتے ہیں''۔

مسٹر جان کیری کا کہنا تھا کہ ''ایران میں ہونے والے انتخابات بیشتر ممالک میں بیشتر لوگوں کی جانب سے آزاد ،شفاف ،کھلے ،قابل رسائی اور قابل احتساب انتخابات کی طرح نہیں ہوں گے اور ایرانی عوام کو اپنی پسند کے امیدوار کے انتخاب سے روک دیا جائے گا''۔

ایران کی شورائے نگہبان نے گذشتہ منگل کو سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور صدر محمود احمدی نژاد کے سابق چیف آف اسٹاف اسفندیاررحیم مشایی سمیت پونے سات سو امیدواروں کو 14 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دے دیا تھا۔

قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان پیٹرک وینٹرل نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ایران کی غیر منتخب شورائے نگہبان نے ایک مبہم معیار کی بنا پر سیکڑوں امیدواروں کو نااہل قرار دیا ہے''۔

ترجمان نے کہا کہ ''کونسل نے صدارتی امیدواروں کی فہرست کو صرف آٹھ تک محدود کردیا ہے اور صرف ان امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ رجیم کے مفادات کی نمائندگی کرتے ہیں یا کریں گے''۔

شورائے نگہبان نے جن آٹھ امیدواروں کو اہل قرار دیا ہے،ان میں نصف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار ہیں اور وہ ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی،معروف رکن پارلیمان غلام علی حداد عادل ،سابق وزیرخارجہ علی اکبر ولایتی اور تہران کے میئر محمد باقر قلی باف ہیں۔