.

بلمختار گروپ نے نیجر میں خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرلی

مالی میں فوجی کارروائی پر فرانس اور دوسرے ممالک میں بم حملوں کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی مغرب میں القاعدہ کے سابق کمانڈر مختار بالمختار کے گروپ نے افریقی ملک نیجر میں گذشتہ روز دومقامات پر خودکش بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور اس ملک میں مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔ان بم دھماکوں میں بیس افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے تھے۔

الجزائر سے تعلق رکھنے والے مختار بالمختار کے گروپ نے جہادیوں کے انٹرنیٹ فورمز پر جمعہ کو پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم نیجر میں مزید کارروائیاں کریں گے''۔بیان میں پڑوسی ملک مالی میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں ملوث فرانس اور دوسرے ممالک کو بھی بم حملوں کی دھمکی دی گئی ہے۔

موریتانیہ کی خبررساں ایجنسی الاخبار کی اطلاع کے مطابق بلمختار بہ ذات خود نے نیجر کے شہر اجادیز میں جمعرات کو فوجی چھاؤنی اور فرانس کے زیرانتظام یورینیم کی ایک کان کے باہر خودکش بم حملوں کی نگرانی کی تھی۔

بلمختار گروپ کے ترجمان حسن ولد خلیل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آرلیط میں واقع یورینیم کی کان کی حفاظت پر مامور فرانس کی ایلیٹ فورسز کو بم حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔اجادیز اور یورینیم کی کان پر حملوں میں دس جنگجوؤں نے حصہ لیا تھا۔نیجر کے حکام نے ان میں سے چھے کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

ترجمان کے بہ قول دونوں جگہوں پر حملوں کی نگرانی مالی سے تعلق رکھنے والے جنگجو گروپ حرکۃ التوحید والجہاد نے کی تھی۔گذشتہ روز نیجر میں بم حملوں کے فوری بعد حرکۃ التوحید والجہاد ہی نے سب سے پہلے ان کی ذمے داری قبول کی تھی۔مالی سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے نیجر میں اب تک یہ سب سے تباہ کن بم دھماکے ہیں۔

اس تنظیم نے شمالی مالی میں گذشتہ سال کنٹرول سنبھال کر اپنی حکومت قائم کر لی تھی اور وہاں شرعی قوانین کا سخت انداز میں نفاذ کیا تھا جس کے بعد جنوری میں فرانس نے اس تنظیم سے وابستہ جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔اس تنظیم کے القاعدہ سے بھی روابط بتائے جاتے ہیں۔

فرانسیسی فوج کے فضائی حملوں کے بعد اس تنظیم کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا اور اس کے بچے کچھے اسلامی جنگجو پہاڑی علاقوں کی جانب چلے گئے تھے اور انھوں نے دنیا بھر میں فرانسیسی مفادات کے علاوہ اس کے ساتھ فوجی کارروائی میں تعاون کرنے والی افریقی حکومتوں کے خلاف بھی حملوں کی دھمکی دی تھی۔نیجر نے مالی میں اسلامی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں فرانس کی معاونت کے لیے اپنے ساڑھے چھے سو فوجی بھیجے تھے۔