.

حج آپریشنز کو الیکٹرونک سسٹم پر منتقل کرنے کی تیاریاں مکمل

چھتیس ملین ریال کی لاگت سے ’’یسر‘‘ نامی پروگرام حاجیوں کا مددگار ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت حج کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونٹ نے اعلان کیا ہے کہ حج و عمرہ کے معاملات میں سرگرم دیگر وزارتوں اور تمام حکومتی تنظیموں اور اداروں نے نئے الیکٹرونک سسٹم ’’یسر‘‘ پر منتقل ہونے کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ حکومت کا یہ نیا الیکٹرونک سسٹم 36 ملین ڈالرز کی لاگت سے تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد وزارت حج کے کاموں کو آسان اور حج کے عمل میں شریک تمام وزارتوں اور متعلقہ اداروں کے کاموں باہم مربوط کرنا ہے۔

وزیر حج ڈاکٹر بندر بن محمد حجار نے بتایا کہ عنقریب جو شعبے تاحال جدید ٹیکنالوجی استعمال نہیں کر رہے انہیں اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔ نیز عملے کی تربیت اور تجربے کے ذریعے حج وعمرہ سے متعلق تمام وزارتوں اور اداروں کے عملے کو اس جدید اسٹریٹجی کو اپنانے اور نئے نظام کی طرف منتقل ہونے کے لیے تیار کیا جائے گا۔

سعودی خبر رساں ایجنسی ’’واس‘‘ کے مطابق حجار نے بتایا کہ ’’یسر‘‘ (آسانی) نام کے اس پروگرام کی تیاری میں 36 ملین ریال لاگت آئی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد وزارت حج کے تمام فرائض کو الیکٹرونک سسٹم پر منتقل کرکے ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تاکہ اللہ کے گھر کی زیارت کے لیےآنے والے حجاج ، معتمرین اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضری دینے والوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس خدمات فراہم کی جائیں۔ اس طرح جدید ٹیکنالوجی کی بدولت دینی فرائض کی ادائی میں سہولت کا ایک نیا باب کھلے گا۔

وزیر حج نے بتایا کہ حج و عمرہ کے لیے آنے والے لاکھوں افراد کو یہ الیکٹرونک سہولیات اسی سال سے میسر ہونگی۔ اس نئے الیکٹرونک سسٹم سے سات حکومتی شعبہ جات ملحق ہوں گے، جن میں وزارت داخلہ، نیشنل انفارمیشن سینٹر، وزارت خارجہ، وزارت صحت، وزارت مالیات، وزارت مواصلات و ٹیکنالوجی اور حج سیکریٹریٹ شامل ہیں۔ الیکٹرونک ٹرانزیکشنز کے پروگرام ’’یسر‘‘ حجاج کرام کے ممالک اور سعودی عرب کے بحری، بری اور فضائی شعبوں کی حج ونڈوز کے ساتھ بھی رابطے میں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام پر آنے والی لاگت کا جائزہ ایک کمیشن لے گا۔ کمیشن کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد وزارت حج وزارت مالیات کے تعاون سے اس پروگرام کو چلانے کے لیے ضروری فنڈز کی فراہمی ممکن بنائے گی۔

ڈاکٹر بندر بن محمد حجار نے بتایا کہ ان کی وزارت ممکنہ حد تک حکومت کے مرکزی معاملات اس پروگرام کی مدد سے ای گورنمنٹ کی جانب منتقل کرلے گی۔ یوں وزارت حج کا حکومتی اداروں سے ملنے براہ راست تعاون پرانحصار کافی کم ہوجائے گا۔ تاہم وزارت کو تمام حکومتی شعبوں کو ’’یسر‘‘ پروگرام کے تحت لانے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ الیکٹرونک ٹیکنالوجی کا کسی بھی عمل پر مکمل اور فوری اطلاق ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے کافی وقت اور مرحلہ وار اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔

فریضہ حج کی سعادت کے لیے آنے والے لاکھوں افراد کو الیکٹرونک سہولیات کی فراہمی فی الحال جزوی ہوگی۔ بعد ازاں وزارت حج سروسز کے تمام شعبوں میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے قابل ہو کر فریضہ حج کے تمام آپریشنز کو الیکٹرونک سسٹم کے تحت لے آئی گی۔