.

شامی حکومت سے جنیوا کانفرنس سے متعلق واضح بیان کا مطالبہ

بشارالاسد حکومت نے مجوزہ کانفرنس میں شرکت کا اصولی فیصلہ کیا ہے:روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حزب اختلاف نے صدر بشارالاسد کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مجوزہ عالمی امن کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے کوئی واضح بیان جاری کرے جبکہ روس نے دعویٰ کیا ہے کہ شامی حکومت نے اصولی طور کانفرنس میں شرکت سے اتفاق کیا ہے۔

ترکی کے شہر استنبول میں شامی قومی اتحاد کے اجلاس کے موقع پر اس کے ترجمان لوئی صافی نے کہا کہ ''ہم یہ بات اسد حکومت سے سننا چاہتے ہیں۔ہمیں کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے روس کے ذریعے اطلاع پہنچائی گئی ہے لیکن اس معاملے میں نجانے شامی کیوں خاموش ہیں؟''

انھوں نے کہا کہ ''ہم واضح بیان چاہتے ہیں۔یہ اعلان ابھی تک مبہم ہے اور یہ نجانے دمشق کی جانب سے کیوں نہیں جاری کیا گیا؟''قبل ازیں جمعہ کو روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکاشوچ نے ایک بیان میں کہا کہ ''ماسکو کو دمشق کی جانب سے عالمی امن کانفرنس میں شرکت سے متعلق اصولی طور پر ایک سمجھوتا موصول ہوگیا ہے''۔

استنبول میں شامی قومی اتحاد کے تین روزہ اجلاس میں کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے امور پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔یہ اجلاس جمعرات کو شروع ہوا تھا۔تاہم شامی قومی اتحاد جنیوا میں جون میں منعقدہ کانفرنس سے قبل اس امر کی عالمی ضمانت چاہتا ہے کہ وہاں صدر بشارالاسد کے استعفے پر اتفاق رائے کیا جائے گا۔

مسٹر لوئی صافی کا کہنا تھا کہ ''ہم خاص طور پر روس سے ضمانت چاہتے ہیں کیونکہ روسی قیادت بشارالاسد کا دفاع کرتی چلی آرہی ہے۔اب اگر روسی آگے بڑھتے اور یہ بات سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ کے برخلاف آگے بڑھ رہے ہیں اور غلط فریق کی جانب ہوجاتے ہیں تو پھر ہم معنی خیز تبدیلی کو ملاحظہ کرسکتے ہیں اور اس سے شامی عوام بھی محفوظ ہوسکیں گے جو اب تک بہت مصائب جھیل چکے ہیں''۔

روس اور امریکا کے وزرائے خارجہ نے چند روز قبل جنیوا میں آیندہ ماہ شامی بحران کے حل کے لیے کانفرنس بلانے سے اتفاق کیا تھا اور اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ اس کانفرنس میں تمام فریق شام میں گذشتہ دوسال سے جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے کسی قابل عمل حل پر اتفاق کر لیں گے۔

شامی صدر بشارالاسد نے گذشتہ ہفتے اس مجوزہ امن کانفرنس کا خیر مقدم کیا تھا۔تاہم انھوں نے ان مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ بہت سے طاقتیں شامی بحران کا حل نہیں چاہتی ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے دوروز قبل ہی عمان میں ''دوستان شام ممالک'' کے اجلاس کے موقع پر شامی صدر بشارالاسد پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں قیام امن کے عزم کا اظہار کریں۔انھوں نے کہا کہ ''امریکا اور روس کی مجوزہ جنیوا کانفرنس میں شام میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے کوشش کی جائے گی''۔