.

کرنل معمر القذافی دور کی سیاسی قیادت کے متوقع استعفے

وزیر دفاع، اطلاعات سمیت حکومت کے چار وزراء عہدے چھوڑ دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی جنرل نیشنل کانگریس (پارلیمنٹ) کےاسپیکر ڈاکٹر محمد المقریف کے استعفے کے اعلان کے بعد لیبیا میں سیاسی نقشہ آنے والے چند دنوں میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ المقریف کے ساتھ ان کی نائب جمعہ عتیقہ اور چار ڈاکٹر علی زیدان کی حکومت کے چار دیگر وزراء کا استعفی بھی متوقع ہے۔

لیبی ذرائع نے اخبار ’’الشرق الاوسط‘‘ کو بتایا کہ آنے والے دنوں میں ملک کے اقتدار کے ایوانوں میں بڑی ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ اخبار کے مطابق لیبیا کے اعلی پالیسی ساز ادارے جنرل نیشنل کانگریس کے سربراہ آگلے ہفتے اپنے استعفے کا اعلان کردیں گے۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں جنرل نیشنل کانگریس کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ جمعہ السائح نے زور دیکر کہا کہ ڈاکٹر محمد المقریف نے پارلیمان کے کچھ دیگر اراکین کو بخوشی استعفی دینے کے اپنے ارادے سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے سیاسی تنہائی کے قانون کی منظوری کی پیش نظر پہلے ہی اپنے عہدے سے دستبردارہونے کے عندیہ دیدیا ہے۔ حالیہ دنوں پارلیمان میں منظور کیے جانے والے اس قانون کے تحت اکتوبر 2011ء میں کرنل قذافی کے قتل سے پہلے جو لوگ بھی ان کی حکومت میں شامل رہے انہیں سیاسی عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔

تاہم جمعہ السائع نے کہا کہ محمد المقریف کے استعفے دینے کے فیصلے کی اصل وجوہات اور حالات کے بارے میں واضح طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ محمد المقریف نے گزشتہ سال جولائی میں ہونے والے عام انتخابات کے بعد تشکیل پانے والے پارلیمان کی سربراہی قبول کی تھی۔

اپنے عہدے پر نو ماہ تک برقرار رہنے کے بعد اب وہ جس عہدے کو چھوڑنے کی تیاریاں کر رہے ہیں وہ انتہائی طاقتور عہدہ شمار کیا جاتا ہے۔ اپنے اس عہدے پر وہ بیک وقت مسلح فورسز کے سپریم کمانڈر اور لیبیا کے باضابطہ، عملی اور بااثر صدر بھی تھے۔

جمعہ السائع کےبہ قول نیشنل کانگریس عنقریب المقریف کے استعفے کے اعلان کے بعد ان کی جگہ اس عہدے پر براجمان ہونے کے امیدواروں کا اعلان بھی کردیگی۔ 200 اراکین پر مشتمل اس کانگریس میں سے 20 کو اب تک سابق حکومت سے تعلق کی بنا پر برطرف کیا جا چکا ہے۔

کانگریس میں حال ہی میں جو سابق حکومت میں شامل افراد کی سیاسی تنہائی کے قانون کا اطلاع اگلے ماہ سے شروع ہوگا، جس کے تناظر میں اب توقع کی جارہی ہے کہ المقریب کی نائب جمعہ عتیقہ بھی اپنی مرضی سے ہی اپنے عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گی۔

باخبر لیبی ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے بتایا ہے کہ لیبیا کی سیاست میں بڑی تبدیلوں کے تناظر وزیراعظم علی زیدان کے چار وزراء کے استعفوں کی توقع بھی کی جارہی ہے۔ ان وزراء میں وزیر دفاع، وزیر اطلاعات، وزیر بجلی اور مقامی حکومتوں کے وزیر شامل ہیں۔ ادھر علی زیدان سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان عبد السلام بھی اپنی رکنیت سے جلد استعفی دیدینگے۔

ذرائع کے بہ قول ان بڑی سیاسی تبدیلیوں کا اعلان حکومت کے اتوار یا پیر کے روز کے اجلاس میں کیا جائے گا۔