.

ہیکرز کی کارستانی، اہم سعودی ویب سائٹس پر الجزائر کا پرچم لگا دیا

سکیورٹی فورسز اور اہم وزارتوں کی پورٹلز پر سائبر حملوں کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نامعلوم ہیکرز نے سعودی عرب کی نو اہم ویب سائٹس پر حملہ کرکے ان سائٹس کے ہوم پیچز کے عین وسط میں الجزائر کا پرچم لگا دیا۔

ہفتے کے روز کئے جانے والے اس سائبر حملے میں جن سعودی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا گیا ان میں ’’کھیل، خبروں، قرآن ریڈیو، کنگ فہد ثقافتی سنٹر، ام القرآن، چینل ون، وزارت اطلاعات اور مرکز برائے وزارت کی ویب سائٹس شامل ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے تحقیق کارعادل الغامدی نے بتایا کہ یہ حملہ ایک ہی سرور پر کیا گیا ہے جس پر نو ویب سائٹس ہوسٹ تھیں۔ اس حملے میں ان ویب سائٹس کے متعدد صفحات کو نقصان پہنچا کر بعض اہم معلومات بھی چوری کرلی گئی ہیں۔ تاہم ان ویب سائٹس کو مکمل طور پربند نہیں کیا گیا۔ خیال رہے کہ ایک حالیہ سائبر حملے میں سعودی وزارت داخلہ کی ویب سائٹ کو مکمل طور پر بند کردیا گیا تھا۔

الغامدی نے کہا کہ ہیکرز کا حملہ بھرپور تھا مگر اس سے ہیکرز کا مقصد معلوم نہیں ہوسکا۔ انہوں نے صرف الجزائر کا جھنڈا ان ویب سائٹس پر لگایا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ جھنڈا لگانا ہیکرز کے الجزائر سے ہونے کی نمائندگی کرتا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہیکرز کا تعلق کسی اور ملک سے ہو اور یہ خاص ای میل مائیکروسوفٹ کمپنی میں فرانسیسی زبان میں رجسٹرڈ ہے۔

الغامدی نے بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ سرور وزارت کےاندر ہی موجود تھا باہر نہیں۔ لہذا ظاہری سی بات ہے کہ جس کسی نے اس تک رسائی حاصل کی ہے کہ اچھی طرح جانتا تھا کہ کب سرور میں داخل ہونا ہے اور سرور پر حملہ کا کیا راستہ ہے۔ پس سکیورٹی کی ابتری یا معلومات کا گیپ ہمیشہ جاری نہیں رہتا۔

عادل الغامدی نے کہا کہ سعودی عرب میں ارامکو اور وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر کیے گئے گزشتہ حملوں اور وزارت ثقافت اور اطلاعات پر کیے گئے اس حملے میں فرق یہ تھا کہ ارامکو اور وزارث ثقافت کے حملوں میں ویب سائٹس ہیک کی گئیں اور معلومات چوری کی گئیں اور صفحات کو خراب کیا گیا اور وائرس کو پھیلا دیا گیا جبکہ وزارت داخلہ کی ویب سائٹ پر اٹیک میں اس ویب سائٹ کو کئی گھنٹوں کو بند کردیا گیا تھا۔

حملے کے بعد وزارت ثقافت کی ویب سائٹ ایک دن تک اسی حالت میں رہی حتی کہ جب اس ویب سائٹ سے وائرس پھیلنا شروع ہوا اور حقیقت سے آگاہی ہوئی تو اسے درست کیا گیا۔

یاد رہے کہ سعودی وزارت داخلہ نے تمام حکومتی اداروں اور شعبوں کو مختلف شعبوں میں صرف اصل اور رجسٹرڈ پروگرام استعمال کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔ اس حوالے سے وزارت اطلاعات کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے زیر انتظام آنے والے اداروں میں استعمال ہونے والے پروگراموں کے اصلی ہونے یا کاپی ہونے کی تحقیق کرے۔


وزارت داخلہ کی تنبیہ

قابل ذکر بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ نے حال ہی میں متعدد حکومتی اور دیگر اداروں کی ویب سائٹس پر ہیکرز کے حملوں سے خبردار کیا تھا۔ وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان میجر جنرل منصور الترکی کا کہنا تھا کہ وہ عنقریب الیکٹرانک جرائم سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تسلیم شدہ اقدامات اٹھائیں گے۔ انہوں نے یہ بیان سعودی عرب کی سکیورٹی اور دیگر اہم وزارتوں کی ویب سائٹس پر سائبر اٹیک کے بعد دیا۔

ذرائع ابلاغ نے میجر جنرل منصور ترکی کا بیان بھی نشر کیا ہے کہ حالیہ حملے وزارت خارجہ، وزارت داخلہ، وزارت مالیات، وزارت لیبر اور انسانی حقوق کمیشن کی ویب سائٹس پر کیے گئے تھے۔