امریکا میں سعودی طلبہ سب سے کم 'مشکلات' پیدا کرتے ہیں: عادل الجبیر

سعودی عرب اپنے شہریوں کو بیرون ملک تعلیم دلوانے والا تیسرا بڑا ملک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں زیر تعلیم غیر ملکیوں کے مقابلے میں سعودی طلبہ سب سے کم قانون کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار واشنگٹن میں تعینات سعودی کے سفیر عادل الجبیر نے 'العربیہ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سعودی سفیر نے شاہ عبداللہ سکالرشپ پروگرام کو سراہتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ڈیڑھ لاکھ سعودی طلبہ دنیا کی مختلف جامعات میں اعلی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ چین اور بھارت کے بعد سعودی عرب تیسرا بڑا ملک ہے جس کے طلبہ بڑی تعداد میں بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں الجبیر کا کہنا تھا کہ امریکی جامعات میں زیر تعلیم ننانوے فیصد سعودی طلبہ پڑھائی مکمل کے وطن واپس لوٹ کر اسکی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا کردارادا کرتے ہیں۔

عادل الجبیر نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد سعودی طلبہ کے لئے مختلف امریکی کمپنیوں میں انٹرشپ ملازمت کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت سعودی عرب واپسی سے پہلے طلبہ اپنے اپنے تعلیمی شعبے میں عملی مہارت اور تجربہ رکھنے والی ممتاز امریکی کمپنیوں میں خدمات سرانجام دیتے ہیں۔

سعودی سفیر نے مزید بتایا کہ امریکا میں سعودی طلبہ کو درپیش ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لئے سفارتخانے نے ایک ٹیم تشکیل دے رکھی ہے۔ یہ ٹیم کسی بھی مشکل صورتحال میں سعودی تارکین وطن سے رابطہ کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بوسٹن میراتھن کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں کے بعد سفارتکاروں پر مشتمل سعودی ٹیم کو بوسٹن میں مقیم سعودی طلبہ سے ملاقات کے لئے بھیجا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں