ایران اور امریکا کے درمیان پستے کی اشتعال افزوں 'جنگ'

’’پابندی‘‘ کے باعث دو برسوں سے انکل سام پستے کے کاروبار میں آگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران کے لیے تیل کے بعد جو دو چیزیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں وہ پستہ و زعفران کی کاشت اور قالین سازی کی صنعت ہے۔ ایرانیوں کو بلاشبہ اس بات پر فخر ہے کہ زراعت اور صنعت کی ان دو نمایاں شعبوں میں دنیا میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ مگر حالیہ کچھ عرصے میں صورتحال کچھ تبدیل ہوئی ہے اور امریکی کمپنیاں پستے کے حوالے سے ایرانی فوقیت ماننے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت امریکا پستے کی پیدوار میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے۔

معروف کویتی روزنامے ’’القبس‘‘ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ’’پستے‘‘ کا یہ معرکہ گزشتہ تین دہائیوں سے جاری ہے۔ گزشتہ برس امریکیوں نے ایران سے پہلی پوزیشن چھین کر یہ معرکہ جیت لیا تھا۔ فرانسیسی روزنامے 'لی فیگارو' کے مطابق امسال بھی امریکی ہی اس جنگ میں کامیاب ٹھہرے ہیں۔ امریکا نے اس سال ایران کی 200 ٹن پستے کی پیداوار کے مقابلے میں 250 ٹن پستہ پیدا کرکے ایک بار پھراس شعبے میں اپنی برتری ثابت کردی ہے۔


سن 2008ء بھی وہ سال تھا جب امریکیوں نے پستہ پیدا کرنے کی اس دوڑ میں ایرانیوں کو مات دی تھی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس وقت ایرانی برآمدات پر پابندی کے بعد تہران کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا جس سے امریکی پستے کو زیادہ پذیرائی ملی، مگر اس بار امریکی برتری کی وجہ عالمی پابندیاں نہیں بلکہ ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی ہے۔

واضح رہے کہ پستے کی برآمد ایرانی معیشت کا ایک انتہائی اہم اور بنیادی عنصرسمجھی جاتی ہے اور اس کا ایرانی ترقی میں بھی بڑا کردار ہے۔ یہ پٹرول اور قالین کے بعد زر مبادلہ کمانے کا تیسرا بڑا ذریعہ ہے۔ ایران اپنے پستے کی پیداوار کا 70 فیصد برآمد کردیتا ہے جس سے اسے سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالرز کا منافع حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت لاکھوں ایرانی شہری اپنی زمینوں پر پستہ کاشت کرتے ہیں۔

امریکا اور ایران میں یہ جنگ سن 1970 کے اواخر میں شاہ ایران کی حکومت کےخاتمے کے بعد شروع ہوئی تھی۔ امریکا نے سن 1979 تا 1981 ایران کے پستے کی برآمد پر پابندی عائد کردی تھی مگر امریکا کو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی پستے کی فصل کے ضیاع کی شرح بڑھتی گئی۔ جس کے بعد امریکا نے پستے کی کاشت کاری کے لیے کیلیفورنیا، اریزونا اور نیو میکسیکو کی ریاستوں کا انتخاب کیا جہاں کی آب و ہوا پستے کی کاشت کے لیے کافی موزوں تھی۔


امریکی برتری کی اس کہانی میں ستم ظریفی یہ ہے کہ امریکا میں کاشت کیے جانے والے پستے کے بیج بھی دراصل ایرانی ہیں۔ یہ گزشتہ صدی کی تیس کی دہائی کا واقعہ ہے جب معروف امریکی ماہر نباتات ولیم وائٹ ھاؤس یہ بیج امریکا میں لائے تھے۔ اس وقت 10 کلوگرام بہترین پستے کے بیج ایران سے امریکا لائے گئے۔ اس طرح امریکا بھی بہترین ’’کرمن پستہ‘‘ پیدا کرنے کے قابل ہوسکا تھا۔ یہ پستہ ایران کے مہنگے اور ذائقہ دار پستوں کی اقسام میں شمار ہوتا ہے۔

پستے کی پیداوار کو بڑی سرعت سے اس وقت سیاسی اہمیت حاصل ہو گئی جب امریکا 1989 تا 1997 ایران کے سابق صدر ھاشمی رفسنجانی کی حکومت کو گرانے کی کوششیں کر رہا تھا اور صدر رفسنجانی کے صاحب ثروت ہونے کی اصل وجہ ان کا پستے کا کاروبار تھا۔

امریکیوں کے لیے پستے کی پیداوار اور اس کے کاروبار میں ایران کو پیچھے چھوڑنے کے لیے تیس سال کافی تھے۔ اس طرح امریکی پستے کی لابی مضبوط ہوگئی ہے۔ اس دوران 1987 تا 2000 اور پھر 2010 میں ایران کے پستے کی برآمدات پر پابندیاں بھی عائد کی گئیں۔ یہ وجہ تھی کہ امریکا اپنے پستے کی پیداوار کا 65 فیصد حصہ برآمد کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

امریکی پستے کی اتنی بڑی تعداد میں برآمد کے بعد ایرانی پستے کی برآمدات کو امریکا کے بعد عالمی مارکیٹ میں بھی خسارے کا سامنا ہے۔ عالمی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہیں پابندیوں کی وجہ سے متعدد مغربی ممالک نے ایرانی پستے کو درآمد کرنا چھوڑ دیا ہے اور اب یہ ممالک امریکی ریاست کیلی فورنیا کے پستے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ایران کو یورپ میں یونان سے بھی مقابلہ درپیش ہے۔ یونان کا پستہ ذائقے میں ترکی کے پستے کے ہم پلہ شمار کیا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے یورپ میں یونانی پستے کا رواج بھی بڑھتا جارہا ہے۔ ایران اپنے پستے کے لیے چین، روس، ہندوستان اور مشرق وسطی کے متعدد ممالک میں مارکیٹنگ کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں