ایران کا امریکا اور فرانس پر صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام

آیندہ ماہ انتخابات آزاد اور شفاف طریقے سے منعقد ہوں گے:وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے امریکا اور فرانس پر ملک میں آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں مداخلت کا الزام عاید کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''تہران داخلی امور سے متعلق بیانات و تبصروں کو بہت حساس سمجھتا ہے''وزیرخارجہ کے ترجمان عباس ارقچی نے بیان میں کہا کہ ''ایران میں صدارتی انتخابات آزاد اور شفاف طریقے سے منعقد ہوں گے اور یہ ملکی قوانین اور ضوابط کے تحت ہی منعقد ہونے جارہے ہیں''۔

ایران کی شورائے نگہبان نے گذشتہ منگل کو سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور صدر محمود احمدی نژاد کے سابق چیف آف اسٹاف اسفند یار رحیم مشایی سمیت 678 امیدواروں کو 14 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا نااہل قرار دے دیا تھا اور صرف آٹھ امیدوراوں کو اہل قرار دیا تھا۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان فلپ لالیوٹ نے بدھ کو ایک بیان میں ایران پر زوردیا تھا کہ ''وہ اپنے عوام کو آزادانہ طور پر اپنے لیڈروں کے انتخاب کا موقع دے'' لیکن ایرانی ترجمان نے ان کے اس بیان کو مسترد کردیا ہے اور فرانس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ دوسروں کے داخلی امور میں مداخلت کے بجائے اپنے داخلی مسائل پر توجہ مرکوز کرے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے جمعہ کو ایک نیوزکانفرنس میں ایران میں آیندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات کے بارے میں اپنے شکوک کا اظہار کیا تھا اور امیدواروں کی بڑی تعداد کو نااہل قرار دینے پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔انھوں نے کہا کہ ایران کی شورائے نگہبان نے پونے سات سو سے زیادہ صدارتی امیدواروں کو ایک مبہم معیار کی بنا پر نا اہل قرار دیا ہے۔

مسٹر جان کیری کا کہنا تھا کہ ''ایران میں ہونے والے انتخابات بیشتر ممالک میں بیشتر لوگوں کی جانب سے آزاد ،شفاف ،کھلے ،قابل رسائی اور قابل احتساب انتخابات کی طرح نہیں ہوں گے اور ایرانی عوام کو اپنی پسند کے امیدوار کے انتخاب سے روک دیا جائے گا''۔

ایران کو امریکا ،فرانس اور دوسرے مغربی ممالک کی جانب سے اس طرح کے بیانات قبول نہیں اور وزیرخارجہ علی اکبر صالحی نے امریکی عہدے داروں کو ان کے ''بلاجواز'' بیانات پر خبردار کیا ہے۔انھوں نے امریکی عہدے داروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ قابل اعتماد ذرائع اور اپنے خاص مشیروں سے معلومات حاصل کریں۔انھوں نے کہا کہ ان امریکی عہدے داروں کو اپنے بلاجواز بیانات کے مضمرات سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں