سعودی عرب میں ایک لاکھ ہندوستانیوں کی گرفتاری کا خطرہ

نطاقات قانون پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن قریب آنے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں 'نطاقات' قانون کے نفاذ کی تاریخ قریب آنے سے غیر قانونی طور پر مقیم تقریباً ایک لاکھ ہندوستانی تارکین وطن کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

بھارتی اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' کے مطابق اب تک 75000 سے زیادہ ہندوستانی ایمرجنسی ایگزٹ لگوا کر 3 جولائی سے پہلے پہلے وطن واپسی کے منتظر ہیں اور حکومت پر یہ بھاری ذمے داری آن پڑی ہے کہ اگلے چند ماہ میں ان افراد کی واپسی کے انتظامات کرے۔

نئے سعودی قانون ‘نطاقات’ کا مقصد سعودی عرب میں کام کرنے والی مختلف کمپنیز میں غیر ملکی افراد کی جگہ سعودی عرب کے مقامی افراد کی بھرتی ہے۔ اسی سلسلے میں حکومت نے غیر قانونی یا نامکمل دستاویزات کے ساتھ مقیم غیر ملکی تارکین کو موقع دیا تھا کہ وہ ایک مقررہ مدت کہ دوران یا تو اپنے ویزہ اور دیگر ضروری دستاویزات کو قانونی طور پر مکمل کروا لیں اور بصورت دیگر وہ حکومت سے ایک ایمرجنسی ایگزٹ لگوا کر 3 جولائی تک ملک چھوڑ دیں۔

خیال رہے کہ مقررہ تاریخ تک ملک نہ چھوڑنے والے افراد سعودی قانون کی رو سے گرفتار کیے جا سکتے ہیں۔

سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوتے وقت ہندوستانی وزیر خارجہ سلمان خورشید کا ماننا تھا کہ سعودی حکّام اپنے قوانین کے نفاذ میں حق بجانب ہیں۔ "جہاں تک لاجسٹکس کا معاملہ ہے تو یہ یقیناً ایک بہت بڑا چیلنج ہے لیکن ساتھ ہی اچھی بات یہ ہے کہ ابھی ہمارے پاس کچھ وقت ہے، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مقررہ وقت میں وہ سب کچھ کریں جو ممکن ہو۔"

قانون 'نطاقات' کی رو سے سعودی عرب میں کام کرنے والی کمپنیز کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے ملازمین میں ایک مقررہ تناسب سے سعودی افراد ہی کو بھرتی کریں تا کہ مقامی افراد کو روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

'نطاقات' کا قانون کوئی نیا قانون نہیں لیکن اب تک سعودی حکّام نے اس کے نفاذ کے لئے خاص طور پر کوششیں نہیں کی تھیں اور اب جبکہ اس قانون کو سختی کے ساتھ نافذ العمل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے تو محنت کش طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا نظر آتا ہے جن کی بڑی تعداد اپنے ویزے کی میعاد مکمل ہونے کے باوجود سعودی عرب ہی میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہے۔

سعودی عرب میں بھارتی سفارتخانے نے اب تک 57000 غیر قانونی تارکین کا اندراج کیا ہے جب کہ اس تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

چونکہ سعودی حکام کی جانب سے ایمرجنسی ایگزٹ لگوانے کی کاروائی کی رفتار خاصی سست ہے، لہٰذا بھارتی سفارتی حکام اور ماہرین کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ مقررہ مدت سے قبل شاید تمام غیر قانونی تارکین کے لئے ایمرجنسی ایگزٹ لگوانے کا عمل مکمل نہ ہو سکے۔

خورشید کا کہنا تھا کہ اس عمل کے مکمل ہونے کے بعد ہم سمجھتے اور جانتے ہیں کہ پہلے سے کہیں زیادہ ہندوستانی قانونی طور پر سعودی عرب آ سکیں گے۔ سعودی عرب میں مقیم 80 لاکھ سے زائد غیر ملکی تارکین میں سب سے زیادہ بھارتی شامل ہیں جن کی تعداد تقریباً 25 لاکھ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں