یمن: فوجی گاڑی میں بم دھماکا، دو افراد جاں بحق چھے زخمی

دھماکے کی ذمہ داری اسلامی عسکریت پسندوں پر ڈالی جا رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن کے مشرقی شہر حضر الموت میں ریموٹ کنڑول بم حملے کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور چھے دوسرے زخمی ہو گئے۔

مقامی سیکیورٹی عہدیدار کے مطابق بم فوجی گاڑی میں نصب کیا گیا تھا اور جونہی یہ گاڑی الشہر قصبے کی مرکزی شاہراہ پر آئی تو اس میں نصب بم ریمورٹ کنڑول کے ذریعے چلا دیا گیا۔ مارے جانے والوں میں ایک فوجی اہلکار جبکہ دوسرا عام شہری بتایا گیا ہے۔ حملے کا ذمہ دار اسلامی عسکریت پسندوں کو ٹہرایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ عرب بہاریہ کے بعد یمن میں پیدا ہونے والی سیاسی افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی عسکریت پسندوں نے یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کا کںڑول حاصل کر لیا تھا۔ اپنے زیر نگین علاقوں میں انہوں نے اسلامی قانون متعارف کرائے۔ نیز یمن میں اسلامی عسکریت پسندوں نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سے الحاق کر لیا۔ مغربی دنیا جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ کو تنظیم کا خطرناک ترین ونگ سمجھتی ہے۔

گزشتہ برس امریکا کی حمایت یافتہ یمنی فوج اور حکومت نواز قبائلی ملیشیاوں نے یمن کے بڑے شہروں سے اسلام پسندوں کو بیدخل کر دیا تھا۔ غربت کے شکار ملک یمن میں لاقانونیت کا خاتمہ واشنگٹن کی ترجیح ہے۔ امریکا چاہتا ہے کہ القاعدہ اس علاقے کو بین الاقوامی اہداف پر حملے کی خاطر یمن کو بیس نہ بنا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں