.

ایران، یمن کو اسلحہ اسمگل کر رہا ہے: وزیر خارجہ ابوبکر القربی

تہران کے متعدد جاسوسی نیٹ ورکس کا سراغ لگانے کا دعوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر خارجہ ابوبکر القربی نے الزام عاید کیا ہے کہ یمن میں اسلحہ ایران سے اسمگل کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ملکی سیکیورٹی اداروں نے مکمل تحقیقات کے بعد اپنی پیش کردہ رپورٹس میں ناقابل تردید ثبوت پیش کئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اسلحہ صنعاء کو غیر مستکحم کرنے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔

معروف عرب اخبار ’’الشرق الاوسط‘‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ابوبکر القربی نے بتایا کہ ہم نے حال ہی میں ایران سے یمن اسلحہ سمگلنگ کا انکشاف اور اپنے اندرونی معاملات میں ایرانی مداخلت کے نتائج سے خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں ایسے تشدد پسند عناصر ہیں جو ایران کو یمنی معاملات میں مداخلت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران اپنے یمنی بھائیوں کی جانب مدد و نصرت کا ہاتھ بڑھانے کے بجائے یہاں پر اسلحہ اور اپنا جاسوسی نیٹ ورک پھیلا رہا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ سرکاری طور پرایرانی حکومت نے یمن کی کونسی حقیقی مدد کی ہے۔ وہ ہمیشہ سے یمن میں استحکام اور اتحاد کے لیے تعاون میں تذبذب کا شکار رہی ہے۔

ابوبکر القربی نے ایران اور یمن تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب کبھی ایران نے یمن کے معاملات میں مداخلت کی تو ہم تہران میں اپنے بھائیوں سے مذاکرات کو ترجیح دیتے رہے اور ہمیشہ دونوں ملکوں کے درمیان بھائی چارے اور مشترکہ مفادات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر زور دیتے رہے۔

"ہم نے ایران کو یمنی معاملات میں مداخلت کی نتائج سے بھی خبردار کیا ہے کہ مگر ایران میں ایسی متشدد قوتیں موجود ہیں جو اپنی حکومت کو یمن میں مزید مداخلت پر اکساتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے چند دن قبل یمن میں ایرانی مفادات کے لیے سرگرم عمل متعدد جاسوسی نیٹ ورکس کا انکشاف ہو چکا ہے۔"