بحرین کے سیاسی گروپوں پر حزب اللہ سے روابط پر پابندی عاید

وزیرخارجہ شیخ خالد کے حزب اللہ کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد اقدام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بحرین نے سیاسی گروپوں پر لبنان کی عسکریت پسند تحریک حزب اللہ کے ساتھ کوئی روابطہ استوار کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔خلیجی عرب ریاست نے یہ اقدام وزیر خارجہ کے اس بیان سے ایک روز بعد کیا ہے جس میں انھوں نے شیعہ ملیشیا کے سربراہ کو ایک "دہشت گرد" قرار دیا تھا۔

حزب اللہ کے رہنما سید حسن نصراللہ نے ہفتے کے روز ایک تقریر میں کھلے عام کہا تھا کہ ان کے جنگجو شام میں سنی باغیوں کے خلاف صدر بشار الاسد کی فورسز کے ساتھ مل کر لڑرہے ہیں اور وہ وہاں فتح یاب ہوں گے۔

بحرین کی سرکاری خبررساں ایجنسی بی این اے کی اطلاع کے مطابق انصاف اور اسلامی امور کے وزیر شیخ خالد بن علی الخلیفہ کی جانب سے جاری کردہ ایک حکم کے تحت لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ کسی قسم کے تعلق پر پابندی عاید کردی گئی ہے۔

ان کے بہ قول یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ حزب اللہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔تاہم وزیرانصاف کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر کوئی بحرینی جماعت حزب اللہ کے ساتھ روابط استوار کرتی ہے تو اس کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟

بحرین کے اہل تشیع کی جماعت الوفاق کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس کے حزب اللہ کے ساتھ مراسم استوار تھے۔تاہم اس جماعت کے ایک لیڈر ہادی الموساوی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کے حزب اللہ کے ساتھ کسی قسم کے کوئی روابط نہیں تھے۔

ہادی الموساوی نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی جماعت اور حزب اللہ کے درمیان روابط کا کوئی وجود نہیں ہے اور نہ ہم آپس میں باہمی تعاون کررہے ہیں۔ہماری تشویش داخلی ہے اور اس وجہ سے ہمیں ان کے ساتھ روابط استوار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بحرینی وزیرخارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے بھی اتوار کو ٹویٹر پر اپنے ایک تبصرے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ایک دہشت گرد قرار دیا تھا اور یہ پہلا موقع ہے کہ عرب دنیا میں سے کسی نے حزب اللہ کے سربراہ کو کھلے بندوں دہشت گرد قرار دیا ہے حالانکہ اس سے قبل عرب لیڈر شیعہ ملیشیا کو ایک مزاحمتی تحریک ہی قرار دیتے رہے ہیں اور اس کے سربراہ کی اسرائیل کی مزاحمت پر تحسین کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں