.

دبئی میں دنیا کا پہلا ’’اسپیس ہوٹل‘‘تعمیر کرنے کی تیاریاں

ہوٹل زیرو گریوٹی اسپیس ہال اور کہکشاؤں میں سفری سہولت سے مزین ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی ہر سال کوئی نہ کوئی ایسا اچھوتا منصوبہ شروع کرتا ہے جس کی دنیا بھر میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ غیر معمولی اور انوکھے پراجیکٹ کا یہ سلسلہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ہے۔ یوں اس حوالے سے متحدہ عرب امارات نے دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

دبئی کی جانب سے نت نئے پراجیکٹس کا یہ سلسلہ حاکم دبئی شیخ محمد بن راشد کی خوابوں کی تعبیر ہے جنہوں نے اپنی زندگی امارات کی خدمت اور ایسے بڑے پراجیکٹس کے لیے وقف کر رکھی ہے جن کا چرچا ساری دنیا میں زور و شور سے ہوتا رہتا ہے۔

ایک تازہ خبر کے مطابق وہ پروجیکٹ جس پر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کو طویل عرصے تک گفتگو کرتے رہنا ہے، کے متعلق ایک تازہ انکشاف عالمی کمپنی موبی لینا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیروم بوٹاری نے کیا ہے۔ بوٹاری کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کو متحدہ عرب امارات میں ایک ایسا اسپیس ہوٹل بنانےکی درخواست موصول ہوئی ہے جس میں زیرو گریوٹی اسپیس ہال اور ایک خلائی شاپنگ مال ہو۔ اس کے ساتھ گاہکوں کے لیے کہکشاؤں کے درمیان سفر کی سہولت بھی موجود ہو۔


خلائی ہوٹل کا تصور

خلاؤں کا سفر کروانے والے اس ہوٹل کے منصوبے پر عمل درآمد کے بعد یقینی طور پر ہوٹلنگ اور سیاحت کی صنعت ایک نئی جہت سے روشناس ہو گی۔ خلائی ہوٹل کے منصوبے میں شرکت کرنے والی عالمی کمپنی موبیلونا کا مرکزی دفترامریکا میں ہے۔ یہ پراجیکٹ اپنے صارفین کو خلاؤں کی تسخیر اور کہکشاؤں کے درمیان سفر کے مواقع فراہم کرے گا۔ درحقیقت ہوٹل میں آنے والے گاہگ زمین پر ہی موجود ہونگے تاہم ہوٹل کی اسکرین نما کھڑکیاں انہیں خلائی پرواز کا لطف بہم پہنچاتی رہیں گی اور وہ اپنے آپ کو خلاؤں میں اڑتا محسوس کرینگے۔

کمپنی کے بیان کے مطابق ہوٹل میں آنے والے گاہکوں کے حواس خمسہ یعنی دیکھنے، بولنے، سننے، سونگنے اور چھونے کی صلاحیتوں کے لیے تسکین کا سامان کیا جائے گا۔ وہ یہاں پر کرہ ہوائی کو دیکھیں گے۔ خلاء کی آوازویں سن سکیں گے، حتی کہ محیر العقول خلائی اجسام کو چھو بھی سکیں گے۔

اس سے قبل موبیلونا کمپنی نے گزشتہ ہفتے خلائی ہوٹل کی تعمیر کا اعلان کیا تھا جس میں زیرو گریوٹی کا اسپیس ہال، افقی ہواؤں کی سرنگیں اور چوبیس گھنٹے کھلے رہنے والے شاپنگ سنٹر کی سہولت بھی فراہم کرنے کا کہا گیا تھا۔ یہ ہوٹل برسلونا ساحل کی ایک مصنوعی بندرگاہ پر تعمیر کیا جانا ہے۔ کمپنی کو اس ہوٹل کے سوئٹس اور گھروں کی فروخت سے چار لاکھ پچانوے ہزار یورو سے لیکر 26 لاکھ یورو کی آمدن کی توقع ہے۔ ہوٹل کے ایک سوئٹ کا ایک رات کا کرایہ 300 سے 1500 یورو تک رکھا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کی ریاست ابو ظہبی نے بھی خلائی ہوٹل کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ورجن گیلاکٹک کمپنی کے توسط سے ایک خلائی پورٹ لانچ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ پورٹ اگلے تین سالوں میں تیار ہوجائے گا۔ تاہم دبئی اپنے اسپیس ہوٹل کی تعمیر کے حوالے سے کسی بڑے اقدام سے قبل زیر زمین ہوٹل کے منصوبے پر کام کا آغاز کریگا۔