.

دو فرانسیسی خواتین کی 'محبت' کی کہانی نے کینز فلمی ملیہ لوٹ لیا

فلم کو بے باک سیکس مناظر کی وجہ سے بہت شہرت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں چھیاسٹویں کینز فلمی میلے کے اختتام پر گولڈن پام کا اعلیٰ ترین اعزاز اتوار کی رات فرانس ہی کی دو ہم جنس پرست خواتین کے باہمی تعلقات کے موضوع پر بنائی گئی فلم نے جیت لیا۔

فیسٹیول کی جیوری کے سربراہ نے ’محبت کی ایک عظیم داستان‘ کا نام دے کر سراہا۔ 'بلو از دی وارمسٹ کلر: دی لائف آف ایڈیل' نامی اس فلم کے فرانسیسی ہدایتکار تیونس میں پیدا ہونے والے عبدالطیف کشیش ہیں۔ یہ فلم دو خواتین کی ایک دوسرے کے لیے گہری نرم و گداز محبت کی کہانی پر مبنی ہے۔

دو ہفتے تک جاری رہنے والے اس بین الاقوامی فلمی میلے کی جیوری کی سربراہی معروف امریکی ہدایتکار اسٹیون اسپیلبرگ نے کی اور جیوری میں معروف امریکی اداکارہ نکول کڈمین بھی شامل تھیں۔ اسٹیون اسپیلبرگ کی سربراہی میں جیوری نے نہ صرف گولڈن پام ایوارڈ اس فلم کو دینے کا فیصلہ کیا بلکہ ساتھ یہ غیر معمولی اعلان بھی کیا کہ یہ ایوارڈ مشترکہ طور پر فلم کے ہدایتکار اور دونوں مرکزی اداکاراؤں کو دیا جاتا ہے۔

اس طرح یہ ایوارڈ لینے کے لیے عبدالطیف کشیش کے ساتھ 19 سالہ ایڈیل زیراکوپولس اور لی سیڈوکس بھی موجود تھیں۔ ایڈیل نے اس فرانسیسی فلم میں ایک ایسی 15 سالہ لڑکی کا کردار ادا کیا ہے، جسے 27 سالہ لی سے محبت ہو جاتی ہے۔ ایوارڈ لینے کے بعد آڈیلے نے اپنی مختصر تقریر میں کہا، ’یہ ایک عالمگیر فلم ہے۔ یہ ایک لو سٹوری ہے۔ لہٰذا یہ بات اہم نہیں ہے کہ اس فلم کی کہانی دو عورتوں کے گرد گھومتی ہے۔‘

اس فلم کا دورانیہ تین گھنٹے بنتا ہے اور جب کینز فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش کی گئی تھی تو یہ فلم اس وقت بھی اس وجہ سے شہ سرخیوں کا موضوع بن گئی تھی کہ یہ بہت طویل فلم ہے جس میں چند حلقوں کی طرف سے کچھ جنسی مناظر کو متنازعہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس فلم کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہے کہ اس کی کینز فیسٹیول میں پہلی مرتبہ نمائش اس وقت کی گئی جب فرانس میں ہم جنس پرست افراد کو آپس میں باقاعدہ شادیاں کرنے کا حق دیے جانے سے متعلق قانون کے نفاذ کو ابھی چند روز ہی ہوئے ہیں۔

اس فلم کے بارے میں میلے کی جیوری کے سربراہ اسٹیون اسپیلبرگ نے کہا، ’یہ فلم محبت کی ایک عظیم داستان ہے۔ گہری محبت کی ایک ایسی کہانی جس میں بہت تکلیف دہ انداز میں دل ٹوٹنے کے عمل کا بتدریج آغاز شروع سے ہی ہو جاتا ہے‘۔

گولڈن پام ایوارڈ لیتے ہوئے فلم کے ہدایتکار کشیش نے کہا، ’میں ہر وہ کوشش کروں گا جس کے ذریعے اس فلم کو تیونس اور ایسے دیگر ملکوں تک لے جایا جا سکے، جہاں مکمل جمہوریت نہیں ہے اور جہاں اس فلم کے کچھ مناظر ایسے ملکوں کے لیے شاید ایک مسئلہ بھی ہو سکتے ہیں۔‘

اس فلم کو گولڈن پام کا اعلیٰ ترین اعزاز دینے کا فیصلہ ان 20 فلموں میں سے کیا گیا، جو باقاعدہ طور پر اس میلے میں مقابلے کے لیے شامل کی گئی تھیں۔ بہترین اداکار کا ایوارڈ 76 سالہ بروس ڈیرن کو الیگزنڈر پائنے کی فلم نبراسکا میں ان کے کردار کے لیے دیا گیا۔ اس میلے کا تیسرا اعلیٰ ترین انعام یعنی جیوری پرائز کورے ایدا ہیروکازُو کی فلم 'جیسا باپ، ویسا بیٹا' کے حصے میں آیا۔

اس کے علاوہ بہترین ہدایتکار کا اعزاز میکسیکو کے فلمساز ایسکالانتے کو ان کی منشیات کی تجارت اور اس وجہ سے ہونے والی خونریز جنگ کے موضوع پر بنائی گئی ڈرامائی فلم ہیلی کے لیے دیا گیا۔ کینز میلے میں بہترین پہلی فیچر فلم کے شعبے میں دیا جانے والا انعام ’گولڈن کیمرا‘ سنگاپور کے ڈائریکٹر انتھونی چَین کو ان کی فلم ’اِیلو اِیلو‘کے لیے دیا گیا۔