.

یورپ میں فلسطینی کانفرنس میں اتحاد کے بجائے اختلافات کا نقارہ بج اٹھا

فلسطینی انتظامیہ کی سفیرہ پر 'کاز' کو نقصان پہنچانے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپ میں فلسطینیوں کی بڑی سالانہ تقریبات میں سے ایک ’’فلسطینی عالمی کانفرنس‘‘ مسئلہ فلسطین پر کسی مثبت پیش رفت کے بجائے اختلافات کو مزید ہوا دے کر اختتام پذیر ہو گئی۔

اس موقع پر اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' اور 'فتح' کے حامیوں کے مابین زبردست اختلافات دیکھنے میں آئے۔ کانفرنس کے سربراہ نے برسلز میں فلسطینی اتھارٹی کی خاتون سفیر پر الزام عائد کیا کہ یورپ میں فلسطینی لابی بھی اسرائیلی لابی کی طرح فلسطینی ایشو کو مزید خراب کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

گیارہویں عالمی فلسطینی یورپی کانفرنس بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں منعقد کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں فلسطینی تقسیم اور اختلافات کے خاتمے کے لیے بہت سی باتیں اور دعوے کیے گئے۔ اس دوران بڑے قومی مفادات کے حصول کے لیے فلسطینیوں کے درمیان اندرون اور بیرون ملک اتحاد پر بھی پورا زور دیا جاتا رہا۔ تاہم کانفرنس کے آخری دن، فلسطینی ہم آہنگی کی قلعی اس وقت کھل گئی جب کانفرنس کے سربراہ اور لندن میں ’’ریٹرن سینٹر‘‘ کے ڈائریکٹر ماجد الزیر نے کھل کر فلسطینی اتھارٹی پر تنقید کرتے ہوئے برسلز میں فلسطینی اتھارٹی کی خاتون سفیر لیلی شہید پر الزامات کی بوچھاڑ کردی۔

ماجد الزیر نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ یورپ میں فلسطینی اتھارٹی سے متعلق لابی بھی مسئلہ فلسطین کو ناکام کرنے اور اس معاملات میں بگاڑ لانے کے حوالے سے اسرائیلی لابی کے پہلو بہ پہلو سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے بیرون ممالک میں اپنے سفارتی عملے کی تطہیر کا مطالبہ بھی کردیا۔ حاضرین میں موجود 'فتح' کے ایک حامی نے ماجد الزیر کی تقریر کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا ’’یہ سب غلط ہے، لیلی شھید نے کسی بھی دوسری فلسطینی تنظیم سے زیادہ مسئلہ فلسطین کے لیے کام کیا ہے‘‘

اس پر ماجد الزیر نے بائیکاٹ کرنے والے شخص سے بحث کیے بغیر اپنی گفتگو ختم کی اور ڈائیس سے نیچے اتر آئے۔ جس کے بعد اسٹیج پرموجود متعدد افراد نے ماجد الزیر پر چڑھائی کردی کہ انہوں نے اکثر فلسطینیوں کی موجودگی میں فلسطینی خاتون سفیر کی اہانت کی ہے۔

کانفرنس کے ایک شریک نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ ماجد الزیر کے بیان کے بعد اسٹیج پر بیٹھے رہنماؤں میں ہونے والی تلخ کلامی کے دوران حماس اور فتح کے ماہرین اپنے اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ یوں یورپ کے فلسطینی حلقوں کی تقسیم کھل کر سامنے آ گئی۔ اس واقعے نے فلسطین کے داخلی اختلافات کو بھی سب کے سامنے آشکار کردیا ہے۔

خیال رہے کہ عالمی فلسطینی کانفرنس، یورپ میں فلسطینیوں کے اہم ترین اجتماعات میں سے سے ایک ہے۔ اس کا انعقاد لندن کی تنظیم ’’ریٹرن سینٹر‘‘ ہر سال کرتی ہے۔ ہر سال کانفرنس یورپ کے مختلف دارالحکومتوں میں منعقد کی جاتی ہے۔ کانفرنس میں یورپ میں مقیم فلسطینی حلقے کے لیے مختلف محافل، تقریبات اور سیمینارز کاانعقاد کیا جاتا ہے۔