.

یورپی وزرائے خارجہ میں شام پراسلحے کی پابندی ختم کرنے پراختلاف

فرانس اور برطانیہ کی شامی باغیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کی وکالت،دوسروں کی مخالفت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے وزراَئے خارجہ کے درمیان شام پر عاید اسلحے کی پابندی کے خاتمے اور شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

یورپی وزرائے خارجہ کا آج سوموار کو برسلز میں اجلاس ہورہا ہے جس میں شام پر عاید پابندیوں میں توسیع پر غور کیا جائے گا۔اجلاس سے قبل برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ ''اہم بات یہ ہے کہ ہم اسلحے کی پابندی کے خاتمے کا اظہار کردیں،اس سے اسد رجیم کو واضح اشارہ ملے گا کہ اسے سنجیدگی سے مذاکرات کرنا ہوں گے''۔

بی بی سی ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والی خبر کے مطابق ولیم ہیگ نے کہا کہ ''اگر شام پر عاید اسلحے کی پابندی کے خاتمے کا اقدام ممکن نہیں تو پھر ہر ملک کی پابندیوں سے متعلق اپنی اپنی پالیسی ہونی چاہیے''۔

فرانس اور برطانیہ شام پر عاید اسلحے کی پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ یورپی یونین کے بیشتر رکن ممالک شام میں مزید اسلحہ بھیجنے کے مخالف ہیں۔شامی باغیوں کو مسلح کرنے کے حامی ممالک کا موقف ہے کہ اس طرح شام میں فوجی توازن قائم ہوگا۔شامی باغی جدید اسلحے سے لیس ہوکر صدر بشارالاسد کی فوج کا بھرپور مقابلہ کرسکیں گے۔

یورپی یونین کی شام پر عاید اسلحے کی پابندی اکتیس مئی جمعہ کی رات ختم ہورہی ہے اور اس سے قبل تنظیم کے رکن ممالک کسی سمجھوتے تک پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔برطانیہ اور فرانس یہ چاہتے ہیں کہ بشارالاسد کی حکومت پر تو اسلحے کی پابندی برقرار رہے لیکن حزب اختلاف کے شامی قومی اتحاد پر یہ پابندی ختم کردی جائے۔

لیکن آسٹریا،فن لینڈ ،جمہوریہ چیک اور سویڈن سمیت متعدد رکن ممالک شام پر عاید اسلحے کی پابندی میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتے اور ان کا موقف ہے کہ روس اور امریکا کی مجوزہ جنیوا امن کانفرنس سے قبل اس فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔

آسٹریا کے وزیرخارجہ مائیکل اسپائنڈیلگر کا کہنا ہے کہ انھوں نے ولیم ہیگ سے اس معاملے پر بات چیت کی ہے اور انھیں بتایا ہے کہ اسلحہ کی پابندی نرم کرنے کے حوالے سے ان کے کچھ تحفظات ہیں۔اگر اس میں کوئی ترمیم کرنا ہے تو پھر کوئی درمیانی راہ نکالنا ہوگی لیکن ابھی ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جنیوا میں دوسری امن کانفرنس کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔