انسانی حقوق کونسل میں شام میں غیرملکی جنگجوؤں کے خلاف قرارداد

القصیر میں غیرملکی جنگجوؤں کو لڑائی میں اتارنے پر شامی رجیم کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں شامی حکومت کے خلاف ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں وسطی قصبے القصیر میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شریک غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی کی مذمت کی گئی ہے۔

جنیوا میں بدھ کو انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں اس قرارداد پر غور کیا جائے گا۔مجوزہ قرارداد میں القصیر میں شامی رجیم کی حمایت میں غیرملکی جنگجوؤں کی مداخلت کی مذمت کی گئی ہے۔اس میں واضح اشارہ لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے جنگجوؤں کی جانب ہے جو جیش الحر کے خلاف محاذآراء ہیں۔

قرارداد کا مسودہ امریکا ،ترکی اور قطر نے منگل کو پیش کیا تھا۔اگر اس قرارداد کو منظور کرلیا جاتا ہے تو یہ غیر پابند ہوگی۔البتہ یہ اس انتباہ کی مظہر ضرور ہوگی کہ شام کے مغربی قصبے میں غیرملکی جنگجوؤں کی موجودگی سے علاقائی استحکام کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

مسودے میں شامی حکومت پر زوردیا گیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور انسانی امدادی ایجنسیوں کو تشدد سے متاثرہ تمام شہریوں اور خاص طور پر القصیر تک آزادانہ اور بلاروک ٹوک رسائی دے۔

مجوزہ قرارداد میں القصیر میں قتل عام کے ذمے داروں کے احتساب کو یقینی بنانے اور شام میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج 19 مئی سے القصیر میں باغیوں کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔شامی فوج نے اس کے بعد سے باغیوں کے ٹھکانوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں اورتوپخانے سے شدید گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں بیسیوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔شامی فوج نے گذشتہ کئی ہفتوں سے القصیر کا محاصرہ کررکھا تھا لیکن اسے لبنانی تنظیم حزب اللہ کی کمک پہنچنے کے بعد باغیوں کے خلاف لڑائی میں جزوی کامیابی ملی تھی۔

القصیر کا قصبہ وسطی صوبہ حمص میں لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع ہے اور دارالحکومت دمشق سے ساحلی علاقے کی جانب جانے والی شاہراہ اسی قصبے سے ہوکر گذرتی ہے۔اس وجہ سے شامی حکومت اور باغی دونوں ہی اس کو تزویراتی لحاظ اپنے لیے اہم قرار دے رہے ہیں اور وہاں گذشتہ کئی روز سے گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے۔القصیر میں حزب اللہ کے پچاس سے زیادہ جنگجو بھی شامی باغیوں کے خلاف لڑائی میں مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں