روس اسرائیلی دھمکیوں کے باوجود شام کو جدید میزائل سسٹم دے گا

یورپی یونین کی جانب سے شام پر عاید اسلحے کی پابندی کے خاتمے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس نے مغربی ممالک اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود شام کو پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مطابق ایس 300 طیارہ شکن میزائل دفاعی نظام دینے کا اعلان کیا ہے۔

روس کے نائب وزیرخارجہ سرگئی ریابکوف نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ایس 300 طیارہ شکن میزائل نظام سے شام میں گذشتہ دوسال سے جاری خانہ جنگی میں مداخلت کے خواہاں ''آشفتہ سروں'' کو روکنے میں مدد ملے گی اور یہ نظام ان کے لیے سد جارحیت ثابت ہوگا۔

انھوں نے یورپی یونین پر الزام عاید کیا کہ ''اس نے شام پر عاید اسلحے کی پابندی ختم کرکے دراصل جلتی پر تیل ڈالنے کی کوشش کی ہے''۔روسی نائب وزیرخارجہ کے اس بیان سے چندے قبل اسرائیلی وزیردفاع موشے یعلون نے خبردار کیا ہے کہ ''اگر روس نے یہ میزائل دفاعی نظام شام کو بھیجا تو اسرائیل یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ اسے کیا اقدام کرنا ہے''۔

اسرائیل شروع دن سے روس کی جانب سے شام کو جدید میزائل دفاعی نظام مہیا کرنے کی مخالفت کرتا چلا آرہا ہے اور وہ یہ واویلا کررہا ہے کہ ہتھیاروں کا یہ جدید نظام اس کے دشمن ملک ایران یا پھر لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے ہاتھ لگ سکتا ہے۔

مسٹر یعلون نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ایس 300 طیارہ شکن میزائل نظام کی شپمنٹس کو ابھی بھیجا نہیں گیا ہے۔مجھے امید ہے کہ یہ نہیں بھیجا جائے گا لیکن اگر اللہ معاف کرے یہ نظام شام پہنچ گیا تو ہم یہ بات بہتر جانے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے''۔انھوں نے اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ ان کے پاس روس کی جانب سے شام کو میزائل نظام نہ بھیجنے کی اطلاع کا منبع کیا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل قبل ازیں شام کے اندر فوجی تنصیبات اور اسلحہ کے ڈپوؤں پر فضائی حملے کرچکا ہے اور اس نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے شامی صدر بشارالاسد کی جانب سے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے لیے بھیجے جانے والے اسلحہ اور ہتھیاروں کو نشانہ بنایا تھا۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نے 13 مئی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ماسکو شام کو ایس 300 طیارہ شکن میزائل نظام کی فروخت کے کسی نئے معاہدے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔البتہ وہ پہلے سے طے شدہ معاہدوں پر عمل درآمد کرے گا۔

اسرائیل کے تزویراتی امور اور سراغرسانی کے وزیر یووال اسٹینٹز کا کہنا ہے کہ ایس 300 طیارہ شکن میزائل صہیونی ریاست کے اندر تک مار کرسکتے ہیں اور ان سے تل ابیب میں مرکزی تجارتی ہوائی اڈے پر پروازیں بھی خطرات سے دوچار ہوجائیں گی۔انھوں نے توقع ظاہر کی کہ روس اس معاہدے کو منسوخ کردے گا۔

صہیونی وزیرنے مقبوضہ بیت المقدس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''بدقسمتی سے یہ معاہدہ ابھی تک موجود ہے اور ہمیں اس پر تشویش ہے۔اس سے ایک ظالم رجیم کی حوصلہ افزائی ہوگی جو مکمل طور پر غلط ہے اور روس سے شام کو اس جدید نظام کی ترسیل اخلاقی طور پر بھی غلط ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں