شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر عاید پابندی ختم

دمشق کے خلاف سخت پابندیوں کا اطلاق جاری رہے گا: ہیگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کے ایک طویل اجلاس کے بعد فرانس اوربرطانیہ کے پر زور مطالبے پر شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرنے پر عائد پابندی اٹھالی گئی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیئم ہیگ نے برسلز میں یورپی وزرائے خارجہ کے بارہ گھنٹے طویل اجلاس کے بعد اس فیصلے کی تفصیلات بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بشار الاسد کی دمشق حکومت کے خلاف سخت پابندیوں کا اطلاق جاری رہے گا۔ برطانوی وزیر نے زور دے کر کہا کہ لندن حکومت کا شامی باغیوں کو ’فوری طور پر‘ اسلحہ فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

گزشتہ روز کے اجلاس میں شام کو اسلحہ سپلائی کرنے سے متعلق سابقہ قرارداد کی تجدید نہیں کی گئی اور یوں اسلحہ سپلائی پر عائد پابندی ختم ہوگئی۔ آسٹریا، سویڈن، فن لینڈ اور چیک جمہوریہ شامی تنازعے میں مزید اسلحہ جھونکنے کے خلاف رہے اور انہوں نے اسے امن سے متعلق یورپی اقدار کے منافی قرار دیا۔

یورپی یونین کے اجلاس میں خاصی طویل بحث کے بعد اسلحہ سپلائی پر عائد پابندی اٹھانے کا فیصلہ ہوا۔ اس بابت برطانوی وزیر کا کہنا تھا، ’’ یہ وہ نتیجہ ہے جو برطانیہ چاہتا تھا، یہ شام پر سیاسی عمل اور جنیوا کانفرنس کے انعقاد میں ہماری کوششوں کو سہارا دے گا‘‘۔

برطانوی وزیر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شامی تنازعے کے سیاسی حل کا خواہاں ہے مگر وہاں خون خرابے کے تسلسل کی وجہ سے شامی حکومت کو یورپ کی جانب سے واضح پیغام مل گیا ہے۔ ’’ہمارا ایسا کوئی فوری منصوبہ نہیں کہ شام کے لیے اسلحہ روانہ کیا جائے تاہم اس فیصلے سے ہمیں مستقبل میں حالات کی ابتری کی صورت میں ردعمل کا موقع ملتا ہے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں