شامی جنگ کے لئے ایرانی رضاکار بھرتی مہم کا آغاز

ابو الفضل العباس کے نام سے پاسداران انقلاب کے ذیلی یونٹ کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایرانی پاسدران انقلاب کے ذیلی یونٹس نے شامی خانہ جنگی میں بشار الاسد نواز فوج کی مدد کے لیے رضا کاروں کی بھرتی شروع کردی ہے۔ شامی جنگ میں شرکت پر آمادہ رضاکاروں کے لیے ’’ابو الفضل العباس‘‘ کے نام سے خصوصی یونٹ قائم کیا گیا ہے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق رضا کاروں کو پاسداران انقلاب کی کور فورسز کے ہیڈ کوارٹرز کی جانب جاتے دیکھا گیا ہے۔ یہ رضاکار شامی فوج کے ساتھ ملکر باغیوں کے خلاف لڑنے کے لئے اپنے نام رجسٹرڈ کروا رہے ہیں۔

شامی لڑائی کے لئے رضاکار بھرتی مہم کے اشتہار کی ٹیگ لائن ’’بلند مرتبہ سیدات کی دہلیز کا تحفظ‘‘ رکھی گئی ہے۔ اس نعرے میں سیدہ بی بی زینب کے مزار کا حوالہ دیا گیا ہے جو دمشق کے نواح میں واقع ہے۔ اسی نعرے کو لبنان میں حزب اللہ اور عراقی "الحق بریگیڈ‘‘ شامی جنگ میں شرکت کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمد صالحی جوکار نے شامی فوج کے ہمراہ جیش الحر سے لڑنے کے لیے ایرانی بھرتی کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) چلا رہی ہیں۔ یہ سب ایرانی ثقافت و اقدار کے تحفظ کے لیے ایسا کر رہی ہیں جس کے لیے انہیں فری ہینڈ دینا ضروری ہے۔


انہوں نے مزید کہا ’’شامی قوم کو اکیلا چھوڑنا جائز نہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب یورپی یونین ہر طرح کا اسلحہ جمع کرکے شام بھیج رہی ہے اور مختلف ممالک بغیر کسی روک ٹوک کے دہشت گردوں کو اسلحہ بھیج کرمسلسل خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں تو ایسے میں تماشہ دیکھنے والوں جیسا موقف اپنانا درست نہیں بلکہ رضا کاروں کو شامی فوج کی مدد کرنا چاہئے‘‘

واضح رہے کہ شامی اپوزیشن اور دنیا بھر کے مختلف ممالک ایران اور لبنان میں اس کی حلیف حزب اللہ پر شامی معاملے میں براہ راست مداخلت کا الزام لگاتے چلے آ رہے ہیں۔ ان کے بہ قول ایران، بشار الاسد حکومت کی بھرپور مادی اور معنوی مدد کر رہا ہے۔

حال ہی میں ایران کی فوجی حمایت یافتہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی شامی جنگ میں عملی شرکت کا اعتراف سامنے آیا ہے۔ حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو ان کی مرضی کے بغیر شام میں قتال کے لیے نہیں بھیجیں گے۔ حسن نصر اللہ نے کہا کہ ان کے ہزاروں جنگجو شامی فوج کے ہمراہ جیش الحر سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں