مصر: ججوں کا حکومت کیخلاف دھرنا، ججوں پر ٹیکس چوری کا حکومتی الزام

ججز اور وکلائے استغاثہ دفتری اوقات کے بعد رات کو دھرنا دیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری مجلس شوری میں عدلیہ سے متعلق نئے قانون پر بحث کے حوالے سے حکومت اور ججوں کے درمیان شروع ہونے والا تنازع ججوں کے حکومت کے خلاف احتجاجی دھرنے کے اعلان کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔

عدلیہ کے ارکان مجلس شوری کی جانب سے بحث کے لیے پیش کیے گئے نئے جوڈیشل لاء کی مختلف شقوں پر معترض ہیں۔ بالخصوص ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کم کرکے ساٹھ سال کرنے کی شق نے اختلافات کو مزید ہوا دی ہے۔ اسی طرح ایسا قانون جس میں ججوں کی رائے کو ان کے ماحول کے اثرات سے الگ کرنے کی بات کی گئی ہے، بھی ججوں کے لیے کافی اشتعال انگیز ثابت ہوا۔

ججز کلب کے سربراہ کے احمد الزند ایڈووکیٹ دھرنے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جج اور استغاثہ کے تمام وکلاء بدھ سے شروع ہونے والا دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مجلس شوری جوڈیشل اتھارٹی لاء پر بحث روک نہیں دیتی۔ احمد الزند نے بتایا کہ تمام جج حضرات اور استغاثہ کے وکلاء صبح کے وقت اپنے معمول کے فرائض سرانجام دینگے اور رات کو دھرنا دینگے جس سے داد رسی کے لیے عدالتوں کا رخ کرنے والے عام شہریوں کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سپریم کونسل کے اجلاس میں ججوں نے مجلس شوری میں جاری جوڈیشل اتھارٹی لاء پر بحث کو مکمل طور پر مسترد کردیا، اکثر سیاسی شقوں پر مشتمل اس قانون میں ججوں کے حوالے سے تعصب برتا گیا اور ان کے اختیارات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دوسری جانب ججز فورم کے سربراہ نے بھی اس قانون کو ججز کے ساتھ زیادتی اور ان پر ایک حملہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے مجلس شوری کو ججز پر حملے سے باز رہنے اور جوڈیشل اتھارٹی لاء پر بحث کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عدالتی معاملات میں بے جا دخل اندازی سے گریز کیا جائے۔

احمد الزند نے جوڈیشل اتھارٹی کے حوالے بحث کے لیے پیش کیے گئے تین قوانین کو جوڈیشل اتھارٹی کی تباہی کے قوانین قرار دیا اور کہا کہ یہ طویل عرصے سے اپنے دفاع میں مصروف جج صاحبان کے خلاف ایک انتقامی کارروائی ہے۔


ادھر مصری روزنامے ’’الاھرام‘‘ کے مطابق مجلس شوری کی فائنانس اینڈ اکنامک کمیٹی کے اراکین نے سنٹرل آڈیٹنگ ایجنسی کے عملے سے ایک رپورٹ طلب کرلی ہے جس میں ججوں کی تنخواہوں کے بارے میں استفسار کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ ان کی تنخواہوں سے ٹیکس کی عدم کٹوتی سے متعلق حقیقت واضح ہو سکے۔

مصری رکن پارلیمان ایمن شعیب کا کہنا ہے کہ وزارت عدل سے متعلقہ افراد کی تنخواہوں پر لگنے والا ٹیکس ڈیڑھ ارب بنتا ہے۔ سنٹرل آڈیٹنگ ایجنسی کے عہدیدار ربیع صادق نے بتایا کہ وزارت عدل کے اراکین ٹیکس ادا کرتے ہیں مگر انتہائی کم مقدار میں، جس کی بنیاد وہ شقیں بھی ہیں جو مختلف مدات میں ان ججوں کو ٹیکسز میں چھوٹ فراہم کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں