یورپی عدالت سے زین العابدین کے رشتہ داروں کے منجمد اکاؤنٹس بحال

اعتراضات جمع کروانے کی مہلت ختم ہونے تک اکاؤنٹس پر پابندی برقرار رہیگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی عدالت نے تیونس کے سابق صدر زین العابدین بن علی کے تین رشتہ داروں کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا ہے۔ صدر کے دو داماد صخر الماطری اور سلیم شیبوب اور انکی بیوی لیلی طرابلسی کے بھائی بلحسن الطرابلسی کے اکاؤنٹس تیونسی حکومت کی درخواست پر منجمد کیے گئے تھے۔

روزنامہ ’’الشرق الاوسط‘‘ کے مطابق عدالتی نے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا۔ یورپی یونین نے جنوری 2011ء میں تیونس کے انقلاب کے دوران، تیونسی حکام کی درخواست پر انہیں منجمد کیا تھا۔ ان تینوں افراد پر شبہ تھا کہ انہوں نے تیونس کی سرکاری رقوم غبن کرکے یورپ منتقل کی ہیں۔ اسی طرح ان پر منی لانڈرنگ کا شبہ بھی ظاہر کیا گیا تھا۔

اپنے حالیہ فیصلے میں یورپی عدالت نے ان تینوں پر سرکاری اموال کے غبن کو درست قرار نہ دیتے ہوئے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا تاہم عدلیہ نے اپنے ابتدائی فیصلے میں منی لانڈرنگ کا ذکر نہیں کیا، دوسری جانب کسی بھی شخص کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اس پر منی لانڈرنگ کے حوالے سے کیے گئے مقدمے کی تحقیقات کی جارہی ہوں اور وہ صرف سرکاری مال کے غبن کا ہی ذمہ دار ہوں۔ اسی اساس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ یورپی عدالت نے سابق تیونسی صدر کے رشتہ داروں اکاؤنٹس منجمد کرنے کے متعلق اپنے مختصر فیصلے میں منی لانڈرنگ کا ذکر نہیں کیا۔

اگرچہ عدلیہ کی جانب سے زین العابدین بن علی کے دامادوں اور برادر نسبتی کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا گیا ہے تاہم یہ اکاؤنٹس اس وقت تک منجمد ہی رہینگے جب تک کہ عدالت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست کے لیے دی گئی مہلت ختم نہ ہوجائے۔

انسانی حقوق اور قانون کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ تیونس کی حکومت اس فیصلے کے بعد بہت جلد سرکاری اموال کے غبن کے حوالے سے عدالت سے رجوع کرکے اسے مزید ثبوت فراہم کرے گی تاکہ مقدمے کے تینوں تعلق داروں کے اکاؤنٹس دوبارہ کھولے نہ جا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں