''اسامہ نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑایا''

القاعدہ کے سربراہ 10 سال سے خودکش جیکٹ پہنتے چلے آرہے تھے:سابقہ محافظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

القاعدہ کے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کی پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں 2مئی 2011ء کو امریکی خصوصی فورسز کی شب خون کارروائی میں ہلاکت کے واقعہ سے متعلق انکشافات کا سلسلہ دوسال کے بعد بھی جاری ہے۔اب ان کے ایک محافظ نے تازہ یہ انکشاف کیا ہے کہ انھوں نے امریکی فورسز کے ہاتھوں گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

مصر میں اسلامی جہاد کے سابق لیڈر اوراسامہ بن لادن کے سابق محافظ نبیل نائم عبدالفتاح نے ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ ''امریکی خصوصی فورسز نے اسامہ بن لادن کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ جب امریکی فورسز نے پاکستان میں ان کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ کارروائی تو انھوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکی صدر نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ بن لادن کی سمندر میں تدفین کی گئی تھی''۔البتہ گلف نیوز میں شائع ہونے والے اس انٹرویو میں انھوں نے تسلیم کیا کہ وہ واقعہ کے وقت ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں تو موجود نہیں تھے لیکن انھیں یہ تمام تفصیل بن لادن کے ایک کزن سے معلوم ہوئی تھی۔

عبدالفتاح نے کہا کہ ''القاعدہ کے سربراہ اپنی موت سے قبل گذشتہ دس سال سے بارود سے بھری بیلٹ پہنتے چلے آرہے تھے۔انھوں نے خود کو کبھی بھی امریکیوں کے حوالے نہ کرنے کا عزم کررکھا تھا۔امریکی انٹیلی جنس نے انھیں زندہ گرفتار کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے اندازے غلط ثابت ہوئے تھے۔چنانچہ انھوں امریکیوں کے ہاتھوں پکڑے جانے سے قبل ہی خود کو دھماکے سے اڑا دیا کیونکہ وہ اپنی موت تک اپنے رازوں کے امین رہنا چاہتے تھے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں