.

امریکا: سعودی سفیر کے قتل کی سازش، گرفتار ایرانی کو25 سال قید

مجرم نے 2011ء میں سعودی سفیر کو بم دھماکے میں قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی ایک وفاقی عدالت نے گرفتار ایرانی نژاد امریکی شہری منصور ارباب سیئر کو واشنگٹن میں متعین سعودی سفیر کو ایرانی فوج کی مدد سے قتل کرنے کی سازش کے الزام میں مجرم قرار دے کر پچیس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے اس ایرانی نژاد امریکی شہری نے گذشتہ سال اکتوبر میں نیویارک میں وفاقی عدالت کے روبرو بیان دیتے ہوئے اپنے جرم کا اقرار کیا تھا کہ اس نے واشنگٹن میں متعین سعودی سفیر عادل الجبیر کو 2011ء میں ایک ریستوراں میں دھماکا خیز مواد کے ذریعے قتل کرنے کی سازش تیار کی تھی۔اسی الزام میں اس کے خلاف فرد جرم عاید کی گئی تھی۔

ملزم ارباب سیئر کے خلاف نیویارک کی اس وفاقی عدالت میں 23 جنوری 2013ء کو مقدمے کی سماعت کا آغاز ہوا تھا۔عدالت کے وفاقی جج جان کینان نے جمعرات کو مجرم کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ''ارباب سیئر اپنے فعل کا مکمل طور پر ادراک رکھتا تھا۔اسے سبق سکھایا جانا چاہیے اور اس فعل پر کوئی رعایت نہیں برتی جاسکتی''۔

اس سازش کی مبینہ طور پر پندرہ لاکھ ڈالرز کی رقم سے منصوبہ بندی کی گئی تھی اور امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے ایرانی حکومت کے ایجنٹوں پر اس سازش میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن اقوام متحدہ میں ایرانی مشن میں تعینات پریس اتاشی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔

واضح رہے کہ ملزم ارباب سیئر ایرانی نژاد امریکی شہری ہے اور اس کے پاس ایرانی پاسپورٹ بھی ہے۔اس کو 29ستمبر 2011ء کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔وہ اپنی گرفتاری سے قبل امریکا کے شہر ٹیکساس میں ایک عرصے سے رہ رہا تھا جہاں وہ پرانی کاروں کے ایک سیلز مین کے طور پر کام کرتا تھا۔

اٹھاون سالہ منصور ارباب سیئر پر اس کیس کے شریک ملزم غلام شکوری کے ساتھ 20 اکتوبر2011ء کو فرد جرم عاید کی گئی تھی۔اس میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں نے واشنگٹن میں متعین سعودی سفیر کو قتل کرنے کی سازش تیارکی تھی اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈاٶن پے منٹ کے طور پر ایک لاکھ امریکی ڈالرز کا بندوبست کیا تھا۔

ان دونوں ملزموں پرسعودی سفیر کو قتل کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عاید کیا گیا تھا جس سے دوسرے افراد بھی خطرات سے دوچار ہوجاتے اور زخمی ہوسکتے تھے۔غلام شکوری پاسداران انقلاب ایران کے ایک اعلیٰ عہدے دار بتائے جاتے ہیں۔وہ امریکا سے بھاگ کر ایران واپس چلے گئے تھے۔

امریکی حکام کی جانب سے دائرہ کردہ فوجداری درخواست کے مطابق منصور ارباب سیئر نے مئی 2011ء میں امریکا کے ایک خفیہ ایجنٹ کو مبینہ طورپر بم دھماکے کے لیے رقم ادا کی تھی۔اس ایجنٹ نے میکسیکو کے منشیات کے ایک اسمگلر کا روپ دھار رکھا تھا اور وہ بعد میں امریکی خفیہ اداروں کا مخبر نکلا تھا۔

امریکی حکام کے عاید کردہ الزامات کے مطابق ایران سے باہر ایک غیرملکی بنک سے امریکا میں کرائے کے اس مبینہ قاتل کے اکاٶنٹ میں ایک لاکھ ڈالرز کے لگ بھگ رقم بھیجی گئی تھی۔امریکی حکام نے ارباب سیئر پر یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ اس نے القدس فورس کے اعلیٰ افسر اور اپنے کزن عبدالرضا شہلائی سے کہا تھا کہ وہ منشیات کے ایک اسمگلر کو بھرتی کریں کیونکہ منشیات فروشوں کے گینگ کرائے کے قاتل کی شہرت بھی رکھتے تھے۔