.

نائیجیریا میں حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں تین افراد گرفتار

ایک مشتبہ ملزم کی قیام گاہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نائیجیریا میں حکام نے ملک کے ایک شمالی شہر میں چھاپہ مار کارروائی کے دوران لبنانی تنظیم حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان میں سے ایک مشتبہ شخص کی قیام گاہ سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ وبارود برآمد ہوا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تینوں مشتبہ افراد اس افریقی ملک میں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔

ان تینوں مشتبہ ملزموں کو نائیجیریا کے شمالی شہر کانو میں 16 اور 28 مئی کے درمیان گرفتار کیا گیا تھا۔اس شہر کے فوجی ترجمان کیپٹین اقدیشی آئیوہا نے جمعرات کو ایک نیوزکانفرنس میں بتایا ہے کہ ان تینوں نے ابتدائی تفتیش میں حزب اللہ کے ارکان ہونے کا اعتراف کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک لبنانی کی قیام گاہ پر چھاپہ مار کارروائی کے دوران 1160 ایم ایم طیارہ شکن ہتھیار،چار ٹینک شکن بارودی سرنگیں ،122 ایم ایم کی توپ کے دو گولے ،اکیس راکٹ گرینیڈ ،سترہ اے کے 47 کلاشنکوف رائفلیں اور گیارہ ہزار سے زیادہ گولیاں اور ڈائنامیٹس برآمد ہوئے ہیں۔

فوجی ترجمان نے کہا کہ اس اسلحے اور گولہ بارود سے نائیجیریا میں اسرائیل اور مغربی مفادات کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ان میں سے پہلے مشتبہ ملزم مصطفیٰ فواز کو سولہ مئی کو کانو میں واقع ان کی سپر مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔اس ملزم سے تفتیش کے بعد عبداللہ طہینی کی کانو کے ہوائی اڈے سے گرفتاری عمل میں آئی تھی اور اس کے قبضے سے ساٹھ ہزار ڈالرز کے کرنسی نوٹ برآمد ہوئے تھے۔

تیسرے مشتبہ ملزم طلال رضا کو گذشتہ اتوار کو اس مکان سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں سے مذکورہ گولہ وبارود اور اسلحہ برآمد ہوا تھا۔فوجی ترجمان آئیوہا نے بیان میں کہا کہ ''سرچ ٹیم کو مکان کے ماسٹر بیڈ روم میں ایک زیرزمین بنکر کا سراغ ملا تھا اور وہاں سے تمام اسلحہ اور گولہ بارود نکالا گیا تھا''۔

انھوں نے بتایا کہ تینوں مشتبہ ملزموں نے حزب اللہ سے دہشت گردی کے لیے عسکری تربیت لینے کا اعتراف کیا ہے۔فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ ان مشتبہ ملزموں اور نائیجیریا کے اسلامی فرقے بوکو حرام کے درمیان ممکنہ تعلق کی تحقیقات کی جارہی ہے۔بوکو حرام اور نائیجیرین فوج کے درمیان اس وقت ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔

لیکن سلفی سنی مسلمانوں پر مشتمل بوکو حرام اور شیعہ حزب اللہ کے درمیان کسی قسم کا اتحاد ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا کیونکہ ماضی میں ان تنظیموں کے درمیان اس طرح کے تعلق کی کوئی مثال سامنے نہیں آئی ہے۔

نائیجیریا میں شیعہ مسلمانوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جاتی ہے۔ان کی ایک کثیر تعداد 1980ء کے عشرے کے بعد ابراہیم ذک ذکی کی تبلیغ کے نتیجے میں شیعت میں داخل ہوئی تھی۔ابراہیم ذک ذکی اس وقت بھی نائیجیریا کی مرکزی شیعہ تحریک کی قیادت کررہے ہیں اور وہ ملک میں سخت اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کررہے ہیں۔

آئیوہا نے گرفتار مشتبہ ملزموں اور ابراہیم ذک ذکی کی شیعہ تحریک کے درمیان کسی تعلق کی تحقیقات کے بارے میں کچھ کہنے سے گریز کیا ہے۔یہ تحریک اس وقت پرامن انداز میں اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ نائیجیریا کی ایک عدالت نے اسی ماہ ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک مبینہ رکن اور اس کے ایک نائیجیرین ساتھی کو ملک میں غیر قانونی طور پر بحری جہاز کے ذریعے اسلحہ اور گولہ بارود لانے کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ایران سے مبینہ طور پر بھِیجا گیا یہ اسلحہ نائیجیریا کی سب سے بڑی بندرگاہ لاگوس پر 2010 ء میں پکڑا گیا تھا۔