.

"سعودی عرب: "کیشیئر کی جاب کرنے والے خواتین کو ہراساں کرنا جائز ہے

صنف نازک کو ہراساں کرنے کی اپیلوں پر مغربی میڈیا کی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں خواتین کو مختلف شعبوں میں کام کرنے کی اجازت کو غیر اسلامی قرار دینے سے متعلق فتووں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے مغربی میڈیا میں خواتین کی ملازمت کو غیر اسلامی قرار دینے کے حوالے سے فتووں پر خصوصی رپورٹس میں ان اپیلوں کا مذاق اڑایا ہے۔

اسی ضمن میں معروف برطانوی اخبار 'فائنینشل ٹائمز' نے کالم نگار عبداللہ الداوود کی اس اپیل کا خصوصیت سے ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے مارکیٹ میں خدمات سرانجام دینے والی خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے تاکہ روزی روٹی کی تلاش میں گھروں سے باہر نکلنے والی خواتین 'عزت' بچانے کے لئے اپنے گھروں میں مقید ہو جائیں۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اس سوچ اور رویے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ کا

العربیہ نیوز چینل پر اظہار خیال کرتے ہوئے سابق جج الشیخ محمد الجدلانی نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کام کرنے والی خواتین کو ہراساں کرنے کی کال دینے والا شخص کسی کا نمائندہ نہیں اور وہ کسی مجاز اتھارٹی کے بغیر ایسے خیالات کا اظہار کر رہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اسلام اور سعودی عرب کا نام بدنام کرنے والے ایسے شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔

الشیخ الجدلانی نے مزید کہا کہ سعودی وزارت داخلہ کی واضح ہدایات موجود ہیں کہ جو کوئی سعودی عرب روزگار کی تلاش میں آنے والے غیر ملکی مہمانوں کو تنگ کرے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں سب سے بڑا قانون اسلامی شریعت ہے۔ اسلام میں کسی دوسرے کو ہراسان کرنے کی ممانعت ہے۔ ایسا کرنے والا دینی مجرم اور ملکی قانون میں اس کے لئے سزا موجود ہے۔ اگر کوئی عفت ماب خواتین کو ہراساں کر کے اپنا مخصوص ایجنڈا معاشرے میں نافذ کرنا چاہتا ہے تو ایسا کرنے والا خود اپنی ہی شان میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

ادھر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر نے اس بحث کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ایک سعودی نوجوان نے ٹویٹر پر 'کیشیئر خواتین کی ہراساںمنٹ' کے نام سے ایک ہیش ٹیگ بنا دیا ہے تاکہ تجارتی مراکز اور بالخصوص سوپر مارکیٹس میں خواتین کے بطور کیشیئر ملازمت کرنے والی خواتین کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔ ان نوجواںوں کے بزعم خواتین کا بطور کیشیئر کام کرنا حرام ہے اور اس سلسلے میں وہ متعدد فتاوی کا حوالہ دیتے ہیں۔