تیونس: برہنہ مظاہرہ کرنے والی تین مغربی عورتوں کا 5 جون سے ٹرائل

تینوں اخلاق باختہ عورتوں کو 6، 6 ماہ تک قید کی سزا ہوسکتی ہے: وکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کے دارالحکومت تیونس میں مکمل طور پر برہنہ ہوکر مظاہرہ کرنے والی تین یورپی عورتوں کے خلاف کھلے عام غیر شائستہ کردار کا مظاہرہ کرنے کے الزام میں آیندہ ہفتے مقدمہ چلایا جائے گا اور ان تینوں کو اس مقدمے میں چھے،چھے ماہ تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

مادرپدر آزاد عریانیت کا مظاہرہ کرنے والی ان تینوں عورتوں کا مغرب کے ایک اخلاق باختہ گروپ ''فیمین'' سے تعلق ہے۔ان کے وکیل صہیب بحیر نے جمعہ کو فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ''ان تینوں کو پانچ جون کو تیونس کی ایک عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ان کے خلاف مقدمے کی کھلی سماعت کی جائے گی''۔تیونس میں فرانسیسی قونصلر حکام نے بھی اس اطلاع کی تصدیق کی ہے۔

ان تینوں دوشیزاؤں میں دوفرانسیسی اور ایک جرمن ہے۔ان کے خلاف ''کھلے عام ناشائستگی'' اور عوام کے اخلاق پر حملے کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔تیونس میں ان دونوں جرائم کی زیادہ سے زیادہ سزا چھے ماہ قید ہے۔

ان تینوں کو بدھ کو دارالحکومت تیونس میں ایک عدالت کے باہر برہنہ مظاہرہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔''فیمین'' گروپ کی جانب کسی عرب ملک میں یہ پہلا عریاں مظاہرہ تھا۔

ان تینوں نے تیونس میں مئی کے اوائل میں عریاں مظاہرے کے الزام میں گرفتار کی گئی اپنی ساتھ کارکن آمنہ سبوئی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔اس تیونسی عورت کو قیروان شہر میں سلفی گروپ کے خلاف عریاں مظاہرے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس نے اس شہر کے قبرستان کے نزدیک دیوار پر لفظ ''فیمین'' پینٹ کردیا تھا جس سے اس نے اس گروپ سے اپنا تعلق ظاہر کیا تھا۔

جمعرات کو قیروان میں بیسیوں تیونسی شہریوں نے ایک عدالت کے باہر برہنہ مطاہرین کرنے والی ان اخلاق باختہ عورتوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس عدالت میں آمنہ کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

آمنہ نے فیس بُک پر اپنی عریاں تصاویر بھی پوسٹ کی تھیں۔اس کے وکیل صہیب بحیرکا کہنا ہے کہ ان کی موکلہ پر عاید کردہ الزامات پر زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔تاہم وکیل کو امید ہے کہ ان کی موکلہ کو زیادہ سے زیادہ چھے ماہ تک ہی قید ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں