شام کو روسی ساختہ طیارہ شکن میزائل نہیں ملے: اسرائیل کا دعوی

"ماسکو سے میزائل سسٹم کی پہلی کھیپ شام پہنچ چکی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کے سیکیورٹی اور فوجی ذرائع نے روس کی جانب سے شامی حکومت کو ایس 300 طرز کی میزائل اور طیارہ شکن بیٹریوں کی ڈیلیوری سے متعلق اطلاعات کی سختی سے تردید کی ہے۔ اس سے قبل شامی صدر بشار الاسد نے دعوی کیا تھا کہ شام کو طیارہ شکن میزائلوں کی پہلی کھیپ روس سے مل چکی ہے۔

روس نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ 300 ایس طرز کی بیٹریاں شام کو ارسال کی جا رہی ہیں۔ اس ڈیل کا مقصد شام میں کسی غیر ملکی مداخلت کی راہ میں بند باندھنا ہے۔ ادھر اسرائیل نے دو روز قبل ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ روس کی جانب سے شام کو فراہم کی جانے میزائل شکن بیٹریوں کو تباہ کر دیا جائے گا۔

کثیر الاشاعت عبرانی اخبار 'معاریف' نے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے روسی صدر ولادی میر پوتن کو ایک پیغام دیا ہے جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ تل ابیب، ماسکو کی جانب سے دمشق بھیجی جانے والی میزائل شکن بیڑیوں کو تباہ کر دے گا اور انہیں آپریشنل نہیں ہونے دیا جائے گا۔

ادھر پوتن نے بھی نیتن یاہو پر واضح کیا ہے کہ وہ دمشق کو معاہدے کے مطابق میزائل فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ اسرائیلی سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کی روسی میزائل سسٹم کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے پیش نظر ماسکو شاید شام کو اس سسٹم کی فراہمی کی ڈیل منسوخ کر دے۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اسرائیلی عہدیدار سے یہ بیان منسوب کیا ہے کہ عین ممکن ہے روسی بیڑیوں کے چند حصے شام پہنچ چکے ہوں اور تاحال انہیں آپریشنل کرنے کے بات محال نظر آتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں