شامی فوج نے دومسلمانوں سمیت تین مغربی شہریوں کو قتل کردیا

باغی فورسز کی جانب سے شامی فوج کے خلاف لڑائی میں امریکی خاتون کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی فوجیوں نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شمالی مغربی صوبے ادلب میں ایک امریکی خاتون اور برطانوی مرد سمیت تین مغربی باشندوں کو ہلاک کردیا ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''ان تینوں کو ادلب میں ایک حملے میں ہلاک کیا گیا ہے اور فوج کو ان کے قبضے سے فوجی پوزیشنوں کے نقشے اور تصاویر ملی ہیں''۔

انھوں نے بتایا کہ ''یہ تینوں مقتولین ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے حریم اور اس کے جنوب میں واقع شہر ادلب کے درمیان شاہراہ پر فوجی پوزیشنوں کی تصاویر بنا رہے تھے۔اس دوران فوجیوں نے ان پر حملہ کردیا۔یہ واقعہ بدھ کو پیش آیا تھا اور تیسرے مقتول مغربی شہری کی قومیت معلوم نہیں ہوسکی''۔

واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدے دار نے اے ایف پی کے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ''ہم اس کیس سے آگاہ ہیں۔شام میں چیک سفارت کار اس ضمن میں مزید معلومات کے حصول میں ہمیں مدد دے رہے ہیں''۔

درایں اثناء یہ معلوم ہوا ہے کہ شام میں ماری گئی امریکی شہری عورت شامی صدر بشارالاسد کی فورسز کے خلاف لڑائی کے دوران ماری گئی ہے۔اس کی عمر تینتیس سال تھی اور وہ مشی گن سے تعلق رکھتی تھی۔

اس خاتون کی خالہ مونیکا مینزفیلڈ اسپیلمین نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے انھیں ان کی بھانجی نکولی مینزفیلڈ کی شام میں موت کی اطلاع دی ہے۔اس کی موت کیسے واقع ہوئی ہے،اس بارے میں فوری طور پر تفصیل سامنے نہیں آئی لیکن وہ بظاہر اپوزیشن فورسز کی جانب سے لڑرہی تھی۔

اس خاتون کے بہ قول نکولی مینزفیلڈ اٹھارہ سالہ ایک بیٹی کی ماں تھی اور وہ اکیلی ہی رہ رہی تھی۔اس نے پانچ سال قبل اسلام قبول کر لیا تھا لیکن وہ یہ بات نہیں جانتیں کہ ان کی بھانجی کیسے شام پہنچ گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں