.

ایردوآن کے خلاف ترکی میں 'غیر معمولی' مظاہروں کا دائرہ پھیل گیا

ایک ہزار کے قریب افراد کو پرتشدد مظاہروں میں گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکام کا کہنا ہے کہ استنبول اور ملک کے دیگر شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں میں شامل نو سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ان مظاہروں کا آغاز استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد دو دن قبل ہوا تھا اور ان کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر علاقوں تک پھیل گیا تھا۔

حکومت مخالف مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے دو دن بعد اب استنبول کے مرکزی تقسیم چوک سے پولیس کو ہٹا لیا گیا ہے اور وہاں پر مظاہرین کا قبضہ ہے۔

تاہم استنبول میں ہی بسکتاس کے علاقے میں ہفتے کی شام پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا ہے جس میں پولیس نے دوبارہ آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار سے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں اناطولیہ، ازمیر اور قونیہ سمیت 90 مقامات پر حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں جن کے دوران پولیس سے تصادم میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ترک وزیرِ داخلہ معمر گلیر نے کہا ہے کہ ان مظاہروں میں شامل 939 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ ماضی قریب میں ترکی میں سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہرے ہیں۔

وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے ان مظاہروں کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے ان کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقسیم سکوائر ’ایسا علاقہ نہیں بن سکتا جہاں انتہا پسند دندناتے پھریں۔‘

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے طاقت کے استعمال میں ’غطیاں‘ کیں اور مظاہرین پر طاقت کے استعمال کی شکایات کی تحقیقات کروائی جائیں گی۔ کئی ممالک نے مظاہرین سے نمٹنے کے لیے حکومت کے طریقوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔

یہ مظاہرے استنبول کے غازی پارک میں ایک چھوٹے سے دھرنے سے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ غازی پارک استنبول میں موجود چند سرسبز مقامات میں سے ایک ہے اور حکومت اس کے تحفظ کے لیے ان کی اپیلوں پر غور نہیں کر رہی۔

جب پولیس نے جمعہ کو دھرنا دینے والوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس استعمال کی تو ان کا دائرہ پھیلنے لگا۔ مبصریں کے مطابق یہ مظاہرے اب حکومت کی جانب سے ترکی کی ’اسلامائزیشن‘ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔

ہفتے کو اپنے ایک خطاب میں ترک وزیراعظم نے کہا کہ غازی پارک کی جگہ سلطنتِ عثمانیہ دور کی فوجی بیرکوں کی دوبارہ تعمیر منصوبے کے مطابق جاری رہے گی۔ مظاہرین کی جانب سے اس مقام پر شاپنگ سنٹر کی تعمیر کے خدشات پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسا ’نچلی منزل پر ہو سکتا ہے لیکن اس کا ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔‘