.

ترکی میں مظاہروں کے دوران 1700 سے زیادہ افراد گرفتار

مظاہرے 67 شہروں تک پھیل گئے،گرفتار بیشتر افراد کو رہا کردیا:وزیرداخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں استنبول سے شروع ہونے والے حکومت کے مخالف مظاہرے ملک کے دوسرے سڑسٹھ شہروں تک پھیل گئے ہیں اور پولیس نے ان مظاہروں کے دوران گڑبڑ کرنے والے سترہ سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

ترک وزیر داخلہ معمر گولر نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''گرفتار کیے گئے افراد میں سے بیشتر کو رہا کردیا گیا ہے''۔ترکی کے سرکاری خبررساں ادارے اناطولیہ نے وزیرداخلہ کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ منگل کے بعد سے ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف دوسو پینتیس مظاہرے ہوئے ہیں۔

استنبول کے تقسیم اسکوائر سے اتوار کی صبح پولیس کو ہٹا لیا گیا تھا۔شہر کا یہ معروف چوک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا مرکز بن چکا ہے۔وہاں سے پولیس کی واپسی کو مظاہرین نے اپنی فتح قرار دیا ہے اور انھوں نے اس خوشی میں وہاں ڈانس کے علاوہ آتش بازی بھی کی ہے۔

ترک روزنامے حریت کی اطلاع کے مطابق تقسیم چوک میں تو خوشی کا سماں تھا لیکن اس سے چند ہی کلو میٹر کے فاصلے پر واقع وزیراعظم کے استنبول دفتر کے نزدیک پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں اور پولیس نے استقلال ایونیو پر مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔مظاہرین انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کی حکومت کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے اور اس سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے تھے۔

واضح رہے کہ استنبول میں مظاہرے تقسیم چوک کی دوبارہ تعمیر کے منصوبے کے خلاف شروع ہوئے تھے اور وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے بدامنی کے باوجود اس متنازعہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان کیا ہے۔

ترک حکام کے مطابق نئے منصوبے کے تحت تقسیم چوک میں ایک شاپنگ مال تعمیر کیا جائے گا اور سابق خلافت عثمانیہ کے دور کی فوجی بیرکوں کی تعمیرنو کی جائیں گی۔وزیراعظم ایردوآن نے گذشتہ روز ایک بیان میں مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر اپنے احتجاج کو بند کردیں۔تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ''مظاہروں کو روکنے کے عمل میں حکام سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور پولیس نے انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا ہے''۔