.

مصری قوم کو پیاسا مارنے کا حق کسی کو نہیں: مصری سفیر

ایتھوپیا نے سہ رکنی کمیٹی کی رپورٹ کے ساتھ کھلواڑ کیا: افریقی سوسائٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایتھوپیا میں تعینات مصری سفیر محمد ادریس کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا کے نہضہ ڈیم کی تعمیر اور دریائے نیل کے پانیوں کا رخ موڑنے کے حوالے سےمصر پر کوئی فیصلہ زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ مصری قوم کو پیاسا مارنے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس زرخیز خطے کی اہمیت ساری دنیا میں تسلیم شدہ ہے اور خود ایتھوپیا کی حکومت بار بار اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ وہ مصری پانی کی سکیورٹی کے لیے خطرہ نہیں بنے گی۔

محمد ادریس نے ہفتے کی شام العربیہ چینل کے برادر چینل ’’العربیہ الحدث‘‘ کے فلیگ شپ پروگرام ’’الحدث المصری‘‘ کے اینکر اور معروف صحافی محمود الورواری سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مصری انقلاب کے فورا بعد ہی ایتھوپیا کی جانب سے مصر کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی رفتار میں تیزی آئی اگرچہ اس سوچ کی فکریں بڑی گہری تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مصر انقلاب کے بعد مصر اور ایتھوپیا کے درمیان ایک دوسرے پر اعتماد میں اضافہ بھی ہوا ہے۔

مصری سفیر کا کہنا تھا کہ مصر کافی عرصے سے کام کے بجائے صرف باتوں پر اکتفا کر رہاہے۔ اب معاملے کے حل کے لیے واحد حل صرف مذاکرات ہیں۔ ایتھوپیا کے لوگوں نے دریائے نیل پر مصر کے حق اور ’’خطہ نیل‘‘ کے ممالک کی مشترکہ ترقی کے لیے کام کرنے کا عہد کیا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ ایتھوپیا مصر اور سوڈان کے لیے اس پانی کی اہمیت سے بخوبی آشنا ہے۔



پابندی ضروری نہیں


دوسری جانب افریقی سوسائٹی کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر خا رجہ کے مشیر احمد حجاج کا کہنا ہے کہ مصر، سوڈان اور ایتھوپیا کے ماہرین کی سہ رکنی کمیٹی ایک ایڈوائزری کمیٹی ہے اسے وہ مقام حاصل نہیں جیسا مصری حکومت اس کے بارے میں ظاہر کر رہی ہے۔ کمیٹی کی جانب سے دی گئی تجاویز پر اراکین ممالک کا عمل کرنا لازمی اور ضروری نہیں ہے۔

پروگرام ’’الحدث المصری‘‘ کے اینکر محمود الورواری کے ساتھ اپنی گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ ایتھوپیا نے سہ فریقی کمیٹی کی تجاویز کو نرم اورآسان بنانے کے لیے مداخلت کی ہے اسی وجہ سے کمیٹی کو اپنی پورٹ جاری کرنے میں تاخیر کرنا پڑ رہی ہے۔


احمد حجاج کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے کے حل کے لیے موثر موقف اختیار کرے اسے صرف ایسے ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے جیسا کہ اب کیا جارہاہے۔ مصری دریائے نیل کے پانے کے معاملے میں مبالغے سے کام لے رہے ہیں کیونکہ یہ ان کی لائف لائن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایتھوپیا نے مصر میں سیاسی کشیدگی کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے مخصوص موقف اپنایا ہے۔ اس طرح اس نے مصر کو ایک ناگزیر صورتحال کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم اس سب کے باوجود اس بحران سے نمٹنے کا واحد راستہ مذاکرات ہی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ چین نے مصر سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ نہضہ ڈیم کی تعمیر میں حصہ نہیں لے گا لیکن اٹلی کی ایک کمپنی اس میں دلچسپی لے رہی ہے۔

دوسری جانب سابق اریگیشن وزیر اور پانی کےمعاملات کے ماہر ضیاء القوصی نے کہا کہ آج آنے والی سہ رکنی کمیٹی کی رپورٹ وہ دستاویز ہوگی جسے لیکر مصر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ جیسی عالمی عدالت، سکیورٹی کونسل یا کسی دوسری عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتا ہے جس میں دریائے نیل کے پانی کو تاریخی مصر کے استعمال میں لانے کا مطالبہ کیا گیا ہو۔


ڈیم کا ادھورا ڈیزائن


صحافی محمود الورواری کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں ضیاء القوصی نے کہا کہ ایتھوپیا کے پاس اس ڈیم کا مکمل نقشہ نہیں ہے۔ اس نے مصر میں انقلاب کےبعد کی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر گیند مصر کے کوٹ میں پھینک دی ہے۔ ایتھوپیا نے اب تک سہ رکنی کمیٹی کے پاس اہم دستاویز بھی جمع نہیں کروائیں۔

انہوں نے کہا کہ سابق مرحوم مصری صدر انور السادات نے سابق ایتھوپین صدرھیلا مریام کو دھمکی دیدی تھی کہ کوئی بھی ڈیم تعمیر کیا گیا تو اسے تباہ کردیا جائے گا۔ جس پر ایتھوپین صدر نے بھی جنگ کی دھمکی دیدی تھی۔ تاہم جب خوش قسمتی سے بات اس حد تک نہیں پہنچی تھی۔ انکے بہ قول مصری حکومت کا موقف مطلوبہ حد تک ذمہ دارانہ نہیں ہے۔