.

استنبول میں وزیراعظم کے دفتر کے نزدیک مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلنگ

شاہراہ پر دھرنا دینے والے مظاہرین پر کار چڑھ دوڑی،ایک شخص کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے مختلف شہروں میں وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی حکومت کے خلاف مسلسل چوتھے روز احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور استنبول میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے فائر کیے ہیں۔

استنبول میں حکومت مخالفین سوموار کی رات وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کے دفتر کے باہر جمع ہوکر احتجاج کررہے تھے۔وہ شہر میں مظاہروں کے مرکز تقسیم اسکوائر میں بھی ایک مرتبہ پھر جمع ہو کر احتجاج کررہے ہیں۔اتوار کو تقسیم چوک سے پولیس کو ہٹا لیا گیا تھا۔اس اقدام کو مظاہرین نے اپنی فتح سے تعبیر کیا تھا۔

دارالحکومت انقرہ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان محاذآرائی کی اطلاع ملی ہے۔گذشتہ منگل سے استنبول اور دوسرے شہروں میں جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں بیسیوں افراد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ پولیس نے سترہ سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان میں سے بیشتر کو ابتدائی تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔

ترک وزیراعظم کے خلاف اس احتجاجی تحریک کے دوران آج پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔استنبول میں مظاہرے میں شریک افراد پر ایک کار چڑھ دوڑی جس کے نتیجے میں بائیں بازو کی تنظیم کا ایک کارکن محمد عویلتاس مارا گیا۔مظاہرین نے اس شاہراہ پر دھرنا دے رکھا تھا۔

ترک وزیرداخلہ معمر گولر نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مظاہروں کے دوران اب تک اٹھاون شہری اور ایک سو پندرہ سکیورٹی آفیسر زخمی ہوئے ہیں۔انقرہ کے ڈاکٹروں کی یونین کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران چار سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض کو سر میں شدید زخم آئے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے۔

درایں اثناء ادھر واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ترک مظاہرین اور پولیس پر زوردیا ہے کہ وہ تشدد سے گریز کریں۔مسٹر جے کارنے ایک بیان میں کہا کہ ترک حکومت لوگوں کو پرامن مظاہروں کی اجازت دے۔انھوں نے ترکی میں مظاہروں کے دوران پیش آنے والے تشدد کے واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ امریکا،ترکی کے ساتھ مل کر شام میں جاری تنازعے اور دوسرے بین الاقوامی ایشوز پر کام کرتا رہے گا۔قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے ترکی میں مظاہرین کے خلاف پولیس فورس کے استعمال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔