.

ترکی میں احتجاجی مظاہروں کے بعد وزیراعظم کی امن کی اپیل

رجب طیب ایردوآن کا انتہا پسند عناصر پر مظاہروں کو منظم کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف شدید مظاہروں کے بعد امن کی اپیل کی ہے اور عوام سے کہا ہے کہ وہ مظاہروں سے مشتعل نہ ہوں۔انھوں نے انتہا پسند عناصر پر مظاہروں کو منظم کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

انھوں نے سوموار کو استنبول کے ہوائی اڈے پرماسکو روانہ ہونے سے قبل نیوزکانفرنس میں کہا کہ ''پرامن ہوجائیے،اس تمام صورت حال پر قابو پالیا جائے گا''۔

ترک صدر عبداللہ گل نے بھی لوگوں سے امن کی اپیل کی ہے اور حکومت مخالف مظاہرین سے کہا ہے کہ ان کا پیغام پہنچ گیا ہے۔اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق صدر گل نے کہا کہ ''جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں ہیں''۔

واضح رہے کہ استنبول میں گذشتہ منگل کو معروف تقسیم چوک کے نزدیک ایک پارک کی دوبارہ تعمیر کے منصوبے کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے جو ملک کے دوسرے سڑسٹھ شہروں تک پھیل گئے جبکہ وزیراعظم رجب طیب ایردوآن نے بدامنی کے باوجود اس متنازعہ منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی کے بڑے شہروں میں ہزاروں افراد نے ان مظاہروں میں شرکت کی ہے اور ان کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے فائر کیے جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد زخمی ہوگئے۔

وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کا کہنا ہے کہ ''ان مظاہروں کا اہتمام انتہا پسند عناصر نے کیا تھا''۔ان کے بہ قول ''حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ تین عام انتخابات میں اے کے پارٹی کے ووٹوں میں اضافہ ہوا اور اس نے دو ریفرینڈمز میں کامیابی حاصل کی۔اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک کے عوام نے اے کے پارٹی کو قبول کر لیا ہے''۔

دوسری جانب مظاہرین نے اتوار کو احتجاج کے دوران وزیراعظم ایردوآن کو آمر قرار دیا اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی کامیابی تک مزاحمت جاری رکھیں گے۔

وزیراعظم نے اتوار کو ایک نشری تقریر میں مظاہرین کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ وہ ''آمر'' ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''اگر آپ اس ملک سے محبت کرتے ہیں اور اگر آپ استنبول سے محبت کرتے ہیں تو اس کھیل کا حصہ نہ بنیں''۔

ترک وزیر داخلہ معمر گولر نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ ''پولیس نے ان مظاہروں کے دوران گڑبڑ کرنے والے سترہ سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا ہے لیکن ان میں سے بیشتر کو رہا کردیا گیا ہے''۔وزیرداخلہ نے کہا کہ منگل کے بعد سے ملک کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف دوسو پینتیس مظاہرے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مظاہروں کے دوران اٹھاون شہری اور ایک سو پندرہ سکیورٹی آفیسر زخمی ہوئے ہیں۔انقرہ کے ڈاکٹروں کی یونین کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران چار سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سے بعض کو سر میں شدید زخم آئے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات کی مذمت کی ہے۔

استنبول کے تقسیم اسکوائر سے اتوار کی صبح پولیس کو ہٹا لیا گیا تھا۔وہاں سے پولیس کی واپسی کو مظاہرین نے اپنی فتح قرار دیا اور انھوں نے اس خوشی میں وہاں ڈانس کے علاوہ آتش بازی بھی کی۔ وزیراعظم ایردوآن نے ہفتے کے روز ایک بیان میں مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ فوری طور پر اپنے احتجاج کو بند کردیں۔تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ ''مظاہروں کو روکنے کے عمل میں حکام سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اور پولیس نے انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا ہے''۔