.

مشہور ترک ڈرامے 'حریم السلطان 'کے ہیرو ایردوآن مخالف مظاہرے میں شریک

خالد ارگنش اور ان کی اہلیہ نے اشک آور گیس سے بچاٶ کے ماسک پہن رکھے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن کی جانب سے عثمانی دور خلافت کے چوک کی تعمیر نو کے منصوبے کے خلاف استنبول کے 'تقسیم اسکوائر' میں شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں فنکاروں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔ ترک ڈرامہ سیریل 'حریم السلطان' کے ہیرو اور معروف اداکار خالد ارگنش بھی اپنی اہلیہ سمیت ان استنبول مظاہرے میں شریک تھے۔

خالد کےاس احتجاج کو صرف ایک فنکار کے بجائے ان کے لازوال کردار سلطان سلیمان کے حوالے سے دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ٹی وی سریل میں خلافت عثمانیہ کے 46 سال تک حکمران رہنے والے عظیم حکمران سلطان سلیمان کی کردار نبھانے والے کردار کی احتجاجی مظاہروں میں شرکت کو ترکی کے روزناموں، میگزینز، نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا نے بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا اور اس شرکت کو ’’ایردوان کے خلاف سلطان کا غصہ‘‘ قرار دیا ہے۔ سولہویں صدی میں عثمانیہ خلافت کے سلطان سلیمان کی بیوی کا نام ’’حریم‘‘ تھا۔ ذرائع ابلاغ نے خبر کی یہ سرخی بھی بنائی کہ سلطان اپنی 'حریم' کے بغیر ہی احتجاج میں شامل۔

’’حریم السلطان‘‘ (سلطان کی بیوی) نامی اس ڈرامہ سیریل میں ترک قوم خالد ارگنش کو خلافت عثمانیہ کے سلطان کے حوالے سے جانتی ہے۔ وہ اپنی بیوی کے ہمراہ آنسو گیس سے محفوظ رکھنے والا ماسک پہنے ہوئے مظاہرے میں شریک تھے۔ ان کی اہلیہ نے بھی آنسو گیس سے بچنے کے لیے اپنا چہرا ڈھانپ رکھا تھا۔

اداکار کے نام کو ’’سلطان‘‘ کے نام سے بدلنا بلا مقصد نہیں تھا۔ ان کی مظاہروں میں شرکت کو کوریج دینے کے لیے ’’السلطان‘‘ کے لقب کا استعمال مناسب خیال کیا گیا۔ اس حوالے سے دیگر ترک فنکاروں کے مظاہروں میں شرکت کی بھی بھرپور کوریج کی گئی ہے۔

ادھر معروف ترک فنکار کے احتجاجی مظاہرے میں شرکت پر سوشل میڈیا پر بھی بہت سے لطائف اور پرمزاح جملے کسے جا رہے ہیں۔ ملک کے سوشل میڈیا صارفین نے اس خبر پر اپنے انداز میں تبصرہ کیا ہے، مصریوں کی توجہ اس بات پر ہے کہ دو سال کا وقت ضائع کیے بغیر فوری طور پر مرشد کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کردیا گیا۔

ان مظاہروں میں دیگر بہت سے ترک اداکاروں نے بھی شرکت کی۔ ’’فریحہ‘‘ کے کردار سے شہرت پانے والی ترک اداکارہ ھزال کایا نے بھی ان مظاہروں میں یہ پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا ’’اے استنبول تم اکیلے نہیں‘‘

توقع کی جا رہی ہے کہ احتجاج میں شرکت کرنے والے اکثر فنکار پرامن طور پر واپس چلے گئے تاہم دیگر احتجاج کرنے والوں کے حوالے سے امن کی صورتحال اطمینان بخش نہیں رہی اور پرامن مظاہرین اور ترک پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوتی رہیں۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیلز اور پانی کا استعمال کیا جس پر ترکی کے معروف شخصیات نےسخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ سماجی روابط کی ویب سائٹس کے ذریعے مظاہرین پر کیے جانے والے تشدد کی شدید مذمت کی ہے جن میں عرب دنیا میں ’’مھند‘‘ کے نام سے مشہور اداکار ’’کیفانش تاتیلونگ‘‘ کا نام سر فہرست ہے۔

خیال رہے کہ منگل کے روز سے شروع ہونے والے حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے تاحال جاری ہیں، پولیس نے ایک ہزار کے لگ بھگ مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے جن میں سے متعدد کو رہا بھی کردیا گیا ہے، احتجاج کے دوران پولیس کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں 80 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔