.

پولٹ بیورو طالبان کے وفد کا تین روزہ دورہ ایران

طالبان بھرپورمزاحمتی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کا ایک وفد ایرانی حکومت کی دعوت پر ایران پہنچا ہوا ہے۔ تہران حکومت کی دعوت پر ایران جانے والے طالبان وفد کے اس دورے کی تصدیق طالبان کے ترجمان نے بھی کر دی ہے۔ طالبان کے وفد کی ایران پہنچنے کے حوالے سے تصدیقی خبر ایرانی نیوز ایجنسی کی جانب سے بھی جاری کی گئی ہے۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے طالبان کے دورے کے بارے میں ایک ای میل مختلف ذرائع ابلاغ کو جاری کی ہے۔ اس ای میل کے مطابق طالبان کا وفد ایران کے تین روزہ دورے پر تہران پہنچا ہوا ہے۔ اس بارے میں علاقائی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کو بات چیت کی دعوت دے کر تہران حکومت خطے میں ایک ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہشمند ہے۔

قاری یوسف احمدی کی ای میل کے مطابق طالبان کے سیاسی دفتر کے ایک وفد نے اختتام ہفتہ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق ایک دوسرے وفد نے تہران میں منعقد ہونے والی ایک مذہبی کانفرنس میں شرکت کی۔ احمدی نے یہ واضح کیا کہ دوسرا وفد طالبان سے منسلک مذہبی علماء پر مشتمل ہے۔

اپنی ای میل میں قاری یوسف احمدی نے بتایا کہ طالبان کا سیاسی دفتر کسی بھی کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ اِس مناسبت سے مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بھی ایک بہتر اپروچ ہے کیونکہ ماضی میں افغان جنگ کے خاتمے کے لیے جتنی بھی مذاکراتی کوششیں کی گئیں وہ بغیر کسی نتیجے کے ناکامی سے ہمکنار ہو چکی ہیں۔

طالبان باغیوں کا ایک وفد سن 2012 ء کے اوائل میں امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچا تھا۔ دوحہ میں موجود وفد میں شامل نمایاں ترین شخصیات میں سے ایک طیب آغا ہیں جو طالبان حکومت کے دوران ملا محمد عمر کے چیف آف اسٹاف رہ چکے ہیں۔

رائیٹرز نے گزشتہ برس ایک رپورٹ کہا تھا کہ امریکی حکام کے ساتھ طالبان کے وفد کی ایک ملاقات مارچ سن 2012 ء میں ہوئی تھی تاہم اُس کے بعد مزید کوئی اور ملاقات نہیں ہوئی۔ بظاہر طالبان امن مذاکرات میں دلچسپی لے رہے ہیں لیکن اُن کی مزاحمتی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ طالبان ذرائع سے یہ خبر بھی عام ہو چکی ہے کہ امریکا کی جانب سے قطر میں موجود وفد سے بعد میں کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

دوسری جانب افغانستان کے دارالحکومت کابل سے حکام نے بتایا ہے کہ مشرقی حصے میں دو چیک پوسٹوں پر طالبان نے حملے کیے ہیں۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم چار پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

افغان صوبے نورستان کی حکومت کے ترجمان محمد ظاہر بہند نے بتایا ہے کہ ان کے صوبے کے ضلع کامدیش میں رات بھر جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا اور ان میں تیرہ جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ طالبان جنگجوؤں کے ساتھ افغانستان کی قومی پولیس اور بارڈر پولیس کے دستے جوابی کارروائی میں شریک رہے۔ نورستان صوبے کے ترجمان کے مطابق صوبائی دارالحکومت پارون پر کیے گئے حملے میں مزاحمت کار پسپا ہو چکے ہیں