.

امریکا نے ایرانی قیادت کی ''فرنٹ کمپنیوں'' کو بلیک لسٹ کر دیا

انتظامی حکم کے تحت امریکا میں ایرانی قیادت کے ہر طرح کے اثاثے منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایرانی قیادت کی ملکیتی یا ان کی مالی معاونت کرنے والی سینتیس کمپنیوں کو بلیک لسٹ کردیا ہے اور ان کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کر لیے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ یہ کمپنیاں ایرانی انقلاب کے بانی امام خمینی کے ایک انتظامی حکم کے تحت کام کررہی ہیں۔یہ ایرانی لیڈروں کے لیے سرکاری اداروں سے رقوم کما رہی ہیں اور ایران پر عاید بین الاقوامی پابندیوں کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے بھی کام کررہی ہیں۔

ان کمپنیوں میں ''ایکو'' اور اس کے ماتحت ادارے یا کمپنیاں شامل ہیں۔یہ کمپنیاں ایران کے مختلف شعبوں میں کاروبار کررہی ہیں۔اس کے علاوہ یہ دنیا بھر میں بھی کام کررہی ہیں اور ہرسال ایرانی رجیم کے لیے اربوں ڈالرز منافع کماتی ہیں۔

محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ ایکو ایران پر عاید امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کے منفی اثرات سے حکومت کو بچانے کے لیے کام کرتی ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ ایک منفرد مشن ہے اور یہ کمپنی ایرانی قیادت تک رسائی ہونے کی وجہ سے درکار فنڈز بآسانی حاصل کرسکتی ہے۔

محکمہ خزانہ نے ایک انتظامی حکم کے تحت ان ایرانی کمپنیوں پر پابندیاں عاید کی ہیں اور اس کے تحت امریکا میں ایرانی قیادت کے کسی بھی طرح کے اثاثے منجمد کر لیے گئے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا نے پہلے بھی ایران کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اس پر مختلف النوع پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔ان کے تحت ایرانی اداروں اور شخصیات کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کیے جاچکے ہیں اور ان کے ساتھ کوئی بھی امریکی شہری یا ادارہ کاروبار نہیں کرسکتا ہے۔