.

اور اب ۔۔۔۔۔ بھارت میں امریکی سیاح خاتون سے اجتماعی زیادتی

ٹرک میں سوار تین افراد کا شمالی قصبے سے خاتون کو اُچکنے کے بعد گینگ ریپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش کے سیاحتی پہاڑی قصبے منالی میں تین اوباشوں نے ایک امریکی سیاح خاتون کو لفٹ کے بہانے ساتھ لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

بھارتی پولیس کے ایک افسر شیر سنگھ نے بتایا ہے کہ تیس سالہ امریکی خاتون سوموار کی رات منالی میں اپنی ایک دوست سے ملنے کے بعد واپس اپنے گیسٹ ہاؤس آرہی تھی۔اس دوران اس خاتون کو ایک ٹرک میں سوار تین افراد لفٹ کے بہانے اٹھا کر اپنے ساتھ ایک ویران جگہ پر لے گئے۔

ان تینوں اوباشوں نے اس امریکی عورت کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس کو چھوڑ کر فرار ہوگئے۔اس نے بعد میں قریبی پولیس اسٹیشن میں پہنچ کر عصمت دری کے واقعہ کا کیس درج کرادیا ہے۔پولیس اس خاتون کو پہلے اسپتال لے گئی جہاں اس کے ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔

ہماچل پردیش کے پولیس سربراہ بی کمال کمار نے سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان تینوں مشتبہ ملزموں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

بھارت میں حالیہ مہینوں کے دوران کسی غیر ملکی عورت کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔مارچ میں ریاست مدھیہ پردیش میں ایک سوئس سیاح خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔وہ سائیکل پر مدھیہ پردیش کے دیہی علاقے سے گذررہی تھی۔اس دوران بعض اوباشوں نے اس کی عصمت دری کی۔اس سوئس خاتون پر مجرمانہ جنسی حملے کے الزام میں چھے افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

مارچ ہی میں ایک اور واقعے میں شمالی ریاست اترپردیش میں ایک برطانوی عورت پر مجرمانہ جنسی حملے کی کوشش کی گئی تھی لیکن وہ اپنی عزت بچانے کے لیے ہوٹل کی تیسری منزل پر واقع اپنے کمرے کی کھڑکی سے کود گئی تھی۔اس خاتون پر مبینہ طور پر اس ہوٹل کے مالک نے جنسی حملے کی کوشش کی تھی۔وہ اس کے کمرے میں گھسنے کی کوشش کررہا تھا لیکن اس کے ناپاک ارادے کی تکمیل سے پہلے ہی خاتون نیچے کود گئی ہے۔

اسی اختتام ہفتہ پر ریاست مغربی بنگال میں ایک غیرسرکاری تنظیم کی رضاکار اکیس سالہ آئرش لڑکی کو اس ادارے کے سربراہ نے ہی نشہ آور چیز کھلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا اور پولیس اب اس سے پوچھ گچھ کررہی ہے۔

ان واقعات سے قبل بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں گذشتہ دسمبر میں ایک بس میں سوار میڈیکل کی طالبہ ایک دوشیزہ کو بعض اوباشوں نے اغوا کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جس سے وہ بعد میں اپنی جان کی بازی ہار گئی تھی۔اس واقعہ نے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اس کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے علاوہ ہزاروں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اورخواتین کو بہتر تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس احتجاج کے بعد وزیراعظم من موہن سنگھ کی حکومت نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت خواتین سے اجتماعی زیادتی کے مرتکب افراد کے لیے سزائے قید کی مدت میں اضافہ کیا گیا تھا اور اگر گینگ ریپ کے نتیجے میں متاثرہ عورت کا انتقال ہوجاتا ہے یا وہ کومے میں چلی جاتی ہے تو ایسے کسی واقعے میں ملوث مجرموں کے لیے سزائے موت مقرر کی گئی تھی۔اس کے علاوہ خواتین پر تیزاب پھینکنے ،ان کی اسمگلنگ اور انھیں ہراساں کرنے پر فوجداری قانون کے تحت نئی سزائیں مقرر کی گئی تھیں۔

واضح رہے کہ بھارت میں جنسی جرائم عام ہیں۔نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2011ء کے دوران بھارت بھر میں زنا اور جبری آبروریزی کے 24200 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ بھارت میں ہر بیس منٹ کے بعد کسی نہ کسی عورت کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔پولیس کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق دارالحکومت دہلی میں دوسرے شہروں کے مقابلے میں جنسی زیادتی کے واقعات سب سے زیادہ رونما ہوتے ہیں۔