.

ایرانی کرنسی اور آٹو موبیل کا شعبہ امریکی پابندیوں کا ہدف

ایرانی ریال کو بیرون ملک ناقابل استعمال بنانا چاہتے ہیں: ترجمان وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متنازع جوہری پروگرام کی وجہ سے ایران کے خلاف پابندیوں کا دائرہ بڑھایا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر پابندیوں کا مقصد اس کی کرنسی اور آٹو موبیل کے شعبے کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر تہران کے عدم تعاون کی وجہ سے اس پر پابندیاں سخت سے سخت کی جا رہی ہیں۔

امریکی صدارتی ترجمان جان کارنی کے مطابق صدر اوباما نے ایرانی ریال کی خرید و فروخت پر پابندی لگانے کی حمایت کردی ہے۔ اسی طرح دوسرے تجارتی شعبوں بالخصوص آٹو موبیل اور سپئر پارٹس کے شعبے سے بھی ایران پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں۔

ایک پریس کانفرنس کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر اوباما کی جانب سے جس دستاویز پر دستخط کیے گئے اس میں ایرانی ریال کو ملک سے باہر ناقابل استعمال بنانے کی سفارش کی گئی ہے۔ کارنی نے بتایا کہ امریکی پابندیوں کا تعلق ایران میں اسمبل ہونے والی لائٹ اور بھاری گاڑیوں کی خرید و فروخت اور اس شعبے میں سروسز کی فراہمی اور گاڑیوں کی ترسیل سے ہے۔ جن گاڑیوں پر پابندی لگائی گئی ہے انمیں بسیں، ٹرک، چھوٹی گاڑیاں، چھوٹے ٹرک اور موٹر سائیکلیں شامل ہیں۔ اسی طرح ان گاڑیوں سے متعلق سپیر پارٹس کی صنعت بھی پابندی کی زد میں آئے گی۔

ترجمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکی صدر کے حالیہ اقدامات بھی ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی کوششوں کا ایک حصہ ہیں۔ امریکا، ایران کی جانب سے عالمی برادری کے ساتھ ایرانی بدمعاملگی کے اخراجات بڑھا رہا ہے۔ تاہم کارنی نے کہاکہ ایران کے لیے عالمی برادری کی ہدایات پر عمل کرکے دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے سفارتی حل کے آپشنز کھلے ہیں۔

اس موقع پر امریکی عہدیدار نے ان پابندیوں کے چودہ جون کو ہونے والے ایران کے صدارتی انتخابات سے کسی تعلق کی نفی کی۔ خیال رہے کہ پچھلے کئی سالوں سے مغربی دنیا اور امریکا ایران کو سول جوہری پروگرام کے لبادے میں ایٹمی ہتھیاروں سے روکنے کے لیے اس پر اقتصادی پابندیاں بڑھاتی جا رہی ہے تاہم ایران کسی صورت اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔