.

ایران جوہری بم نہیں بنانا چاہتا: صدارتی امیدوار علی اکبر ولایتی

ہم جوہری بم بنانے کے خلاف ہیں،اسلام کی رُو سے ایسے ہتھیار ممنوع ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں 14 جون کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے قدامت پسند امیدوار علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک جوہری بم تیار نہیں کرنا چاہتا ہے کیونکہ مذہب اسلام کی رو سے ایسے ہتھیار ممنوع ہیں۔

انھوں نے یہ بات فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ منگل کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم جوہری بم بنانے کے خلاف ہیں اور یہ بات ہم متعدد مرتبہ واضح کرچکے ہیں ''۔

علی اکبر ولایتی 1981ء سے1997ء تک ایران کے وزیرخارجہ رہے تھے۔اس وقت وہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

انھوں نے انٹرویو میں کہا کہ ''ہمارے سپریم لیڈر یہ کہہ چکے ہیں کہ جوہری بم کی تیاری مذہبی اعتبار سے ممنوع ہے''۔وہ علی خامنہ ای کے جوہری بم کے خلاف ایک فتویٰ کا حوالہ دے رہے تھے۔

صدارتی امیدوار نے کہا کہ ''ہم نے گذشتہ دس سال کے دوران مغربی ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی ہے لیکن جب ہم پرانے سوالات کا جواب دیتے ہیں تو پھر ایک نیا سوال داغ دیا جاتا ہے۔یہ ایک منحوس چکر ہے جس کا ہمیں خاتمہ کرنا ہوگا''۔

گذشتہ اتوار کو فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے بارے میں مغربی ممالک کی تشویش کا اعادہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ایران کو جوہری بم کی تیاری سے روکنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کی ضرورت ہے۔

علی اکبر ولایتی نے فرانسو اولاند کے اس بیان کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ وہی نعرہ ہے جس کا یہ لوگ بار بار اعادہ کرتی چلے آ رہے ہیں لیکن اس سے جوہری ایشو کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

واضح رہے کہ ایران کی شورائے نگہبان نےعلی اکبرولایتی سمیت آٹھ امیدواروں کو صدارتی انتخاب لڑنے کا اہل قرار دیا ہے، ان میں نصف سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے وفادار ہیں اور وہ ولایتی کے علاوہ ایران کے اعلیٰ جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی، معروف رکن پارلیمان غلام علی حداد عادل اور تہران کے میئر محمد باقر قلی باف ہیں۔

شورائے نگہبان نے سابق صدرعلی اکبر ہاشمی رفسنجانی اور صدر محمود احمدی نژاد کے سابق چیف آف اسٹاف اسفندیاررحیم مشایی سمیت 678 امیدواروں کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا نااہل قرار دے دیا تھا۔