.

شام میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں: اقوام متحدہ

شامی شہریوں پر سرکاری فوج کا سفاکانہ تشدد، ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرنے والے اقوام متحدہ کے محققین کا کہنا ہے کہ شامی رجیم خانہ جنگی میں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور ان کے خلاف محدود پیمانے پر کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کے ثبوت بھی ملے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے والے ان محققین نے منگل کو انتیس صفحات کو محیط اپنی نئی رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں انھوں نے کہا ہے کہ شام میں جاری تنازعہ سفاکیت کے نئے درجے تک پہنچ گیا ہے۔وہاں جنگی جرائم ،انسانیت کے خلاف جرائم اور وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ شامی لیڈروں کا شہروں کے محاصرے، وہاں بمباری اور شہریوں کی ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے الزامات مِیں احتساب کیا جانا چاہیے۔شام میں مارچ 2011ء سے جاری تنازعے کے بعد اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کی یہ پانچویں رپورٹ ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ شامی فوج اور اس کے اتحادی لشکر شہریوں کے قتل ،ان پر تشدد ،خواتین کی عصمت دری اور دوسری غیر انسانی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔

اس رپورٹ میں شامی باغیوں اور ان کے اتحادی غیر ملکی جنگجوؤں کو بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ دکھاوے کے ٹرائلز کے بعد پکڑے گئے فوجیوں اور اپنے مخالفین کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں اور شہری علاقوں میں فوجی سازوسامان اور آلات لاکر شہری آبادی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

تاہم باغیوں کے ہاتھوں قتل ،تشدد اور شہریوں کے اغوا سمیت جنگی جرائم کے واقعات شام کی سرکاری فورسز اور ان سے وابستہ ملیشیا کے مقابلے میں کہیں کم تر ہیں۔تحقیقاتی ٹیم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ جنگی جرائم میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ان کے معاملے کو ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت کو بھیجے۔

تحقیقاتی کمیشن کے چیئرمین پاؤلو پنہیرو نے جنیوا میں نیوزکانفرنس میں کہا کہ کہ انھیں شامی حکومت کی جانب سے ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔زہریلے کیمیکلز کے محدود پیمانے پر استعمال کے شواہد ملے ہیں اورانھوں نے ان ہتھیاروں سے متاثرہ شامی مہاجرین کے انٹرویوز کیے ہیں۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

کمیشن نے مارچ اور اپریل میں زہریلے کیمکلز کے چار حملوں کو رپورٹ کیا ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ یہ ممنوعہ ہتھیار کس فریق نے استعمال کیے تھے۔واضح رہے کہ شامی باغی اور فوج دونوں ہی ایک دوسرے پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات عاید کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحقیقات کاروں کی ٹیم بیس سے زیادہ محققین پر مشتمل تھی اور انھوں نے پندرہ جنوری سے پندرہ مئی کے درمیان شام کے پڑوسی ممالک میں مقیم چار سو تیس مہاجرین کے انٹرویوز کیے تھے۔ان کے علاوہ شام میں مقیم شہریوں سے بھی اسکائپ کے ذریعے رابطہ کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ ٹیم کے ارکان نے یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی ایسی ویڈیو کو بھی ملاحظہ کیا تھا جن سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی نشان دہی ہوتی تھی۔