.

ترک احتجاجی مظاہروں میں ابتک دو افراد جاں بحق ہو گئے

عبداللہ گل کی ایردوآن اور حزب اختلاف کے درمیان صلح کی کوششیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی میں گزشتہ چار دنوں سے حکومت مخالف مظاہروں میں ابتک دو افراد جاں بحق اور 2300 زخمی ہو چکے ہیں۔

ترک نجی سیٹلائیٹ چینل 'این ٹی وی' نے منگل کی صبح اپنے نشریئے میں انکشاف کیا کہ شامی سرحدی علاقے ہاتائی میں ہونے والے مظاہرے کے دوران زخمی ہونے والا ایک نوجوان جنوبی ترکی کے ایک ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ ادھر ترکی کے صدر اور وزیر اعظم دونوں ہی حالیہ مظاہروں کے دوران مختلف بیانات دے کر معاملے کو مزید مشکوک بنا رہے ہیں۔

وزیر اعظم طیب ایردوآن کی قیادت میں ترکی کی حکمران جماعت 'جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی' کی پالیسیوں کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری ہے۔ گزشتہ روز ملک کے ثقافتی دارلحکومت استنبول میں ہونے والے مظاہرے کے دوران بنیاد پرست اسلامی حکومت کے خلاف مظاہرین سے ایک گاڑی ٹکرانے سے ایک نوجوان وفات پا گیا۔ "این ٹی وی" نے ھاتای گورنری کی کونسل کے حوالے سے بتایا کہ ترک نوجواں عبداللہ کومیرت ایک اندھی گولی لگنے سے زخمی ہوا تاہم بعد میں وہ ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔

درایں اثناء ترک وزیر اعظم کے مطابق مظاہروں کے پیچھے ’انتہاپسند عناصر‘ کا ہاتھ ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا جب کہ پیر اور منگل کی درمیانی شب متعدد بڑے شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں، جن میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ ترکی کے سب سے بڑے شہر استنبول میں 14 سو سے زائد جب کہ دارالحکومت انقرہ اور ازمیر شہر میں آٹھ سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ازمیر شہر میں مظاہرین کی طرف سے برسر اقتدار جماعت ’اے کے پی‘ کے ایک دفتر کو بھی آگ لگا دی گئی۔ مشتعل مظاہرین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کا طرز حکومت آمرانہ ہے اور انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے۔ دوسری جانب ملکی وزیر اعظم ایردوآن مراکش، تیونس اور الجزائر کے چار روزہ دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔

غیر ملکی خفیہ ہاتھ

ترک وزیراعظم کا غیر ملکی دورہ شروع کرنے سے پہلے استنبول ایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مظاہروں کے پیچھے ’انتہاپسند عناصر‘ کا ہاتھ ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس امر کو مسترد کیا کہ یہ مظاہرے ’ترک بہار‘ کا کوئی سلسلہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی خفیہ ادارے اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ان مظاہروں کے پیچھے غیر ملکی طاقتوں کا ہاتھ ہے۔ رجب طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان مظاہروں کے باوجود تقسیم چوک کی تعمیر نو کا کام جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مظاہرین کا پارک میں تعمیر نو کے کام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ خالصتاﹰ حکومت کی مخالفت میں جمع ہوئے ہیں۔

احتجاجی مظاہرے اور عالمی تشویش

واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا تھا کہ وہ احتجاجی مظاہروں کا ’انتہائی غور‘ سے مشاہدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مظاہرین کے خلاف ہونے والے حکومتی طاقت کے استعمال پر فکرمند ہیں۔ جان کیری کا اپیل کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فریقین کو پرتشدد کارروائیوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔

وسیع پیمانے پر بدامنی کے بعد جرمنی نے ترک حکومت اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔ دارالحکومت برلن میں چانسلر انگیلا میرکل کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ انقرہ حکومت کو کریک ڈاؤن کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔ دریں اثناء یورپی یونین نے بھی مظاہرین کے خلاف پولیس کی جانب سے طاقت کے بے جا استعمال پر تنقید کی ہے۔ یورپی یونین کے خارجہ امور کی نگران کیتھرین ایشٹن نے ترکی میں پرتشدد واقعات میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور فریقین سے کہا ہے کہ وہ معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

واضح رہے کہ ترکی میں جمعہ کے روز یہ مظاہرے ایک پارک کی جگہ شاپنگ سینٹر کی تعمیر کے خلاف شروع ہوئے تھے تاہم اب یہ حکومت مخالف رنگ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔