.

صدر مرسی کی اہانت کی پاداش میں مصری کو قید و جرمانے کی سزا

فیصلے کے بعد عدالت میں ہلڑ بازی، صدر اور الاخوان کے خلاف نعرے بازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے صدر مرسی کی توہین کرنے کے الزام میں سیاسی سرگرم کارکن احمد دومہ کو چھ ماہ قید کی سزا سنا دی، جنح طنطا کی عدالت نے قید کے بدلے میں پانچ ہزار مصری پاؤنڈ جمع کروانے کا اختیار بھی دیا۔

عرب مائنڈ سیٹ سنٹر فار ہیومن رائٹس سے تعلق رکھنے والے احمد دومہ کے وکیل رامی غانم نے فیصلے کے فورا بعد اعلان کیا کہ دومہ کے دفاع کے لیےقائم کمیٹی جلد ہی طنطا کی عدالت سے رجوع کریگی اور عدالت کو دومہ کی رہائی کے بدلے میں جرمانے کی سزا ختم کرنے کا کہا جائے گا۔

عدالت نے جیسے ہی مصری صدر محمد مرسی کی توہین کرنے کے ملزم احمد دومہ کو سزا سنائی احاطہ عدالت میں ہلڑ بازی شروع ہوگئی۔ دومہ کے حامیوں نے صدر مرسی اور الاخوان المسلمونکے خلاف کھل شدید نعرے بازی کی۔

مصر کے روزنامے ’’الاھرام‘‘ کے مطابق اس کیس کی سماعت کے موقع پر احمد دومہ کے رشتے دار اور ان کی حمایت کرنے والوں کی بڑی تعداد موقع پر موجود تھی، اس دوران مرکزی سکیورٹی فورسز اور پولیس کےاہلکاروں نے عدالت کو گھیرے میں لے رکھا تھا اور جھڑپوں کے خطرے کے پیش نظر سخت حفاظتی اقدامات کر رکھے تھے۔

احمد دومہ کے حامیوں نے عدالتی فیصلے سے قبل ہی اس کو رد کردیا اور دومہ کے حق میں نعرے بازی کی جاتی رہی۔ ان نعروں میں مرشد عام اور ان کے نائب کی حکومت کےخاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ عدالت میں موجود افراد نے دومہ کو تمام الزامات سے بری کرنے اور اسی طرح مصری انقلاب کے گرفتار شہریوں کو فوری طور پر رہا کرنے کے مطالبات بھی کیے۔

عدالت میں کیس کی سماعت کے انتظار کے لیے دومہ کو ملزمان کے پنجرے میں رکھاگیا، اس موقع پر متعدد اداکار اور سیاسی کارکن بھی ان کی اخلاقی حمایت کے لیے عدالت میں موجود تھے جن میں ڈاکٹر احمد حرارہ اور علاء عبدالفتاح سرفہرست تھے۔

اٹارنی جنرل کونسل طلعت عبد اللہ نے دومہ کو ھنگامی کریمنل مقدمے کے لیے جنح کی عدالت کے سامنے پیش کردیا تھا انہیں ریڈیو پروگرام میں جان بوجھ کر صدر کی توہین کرنے اور ان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے کے الزام میں حراست میں رکھا گیا تھا۔